براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 577
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۷۵ براہین احمدیہ حصہ قُل لَّوْ شَاءَ اللهُ مَا تَلَتُهُ اور اپنے خداوند کی نافرمانی سے ڈرتا ہوں اگر خدا چاہتا تو عَلَيْكُمْ وَلَا اذر نگم بہ میں تم کو یہ کلام نہ سناتا اور خدا تم کو اس پر مطلع بھی نہ کرتا فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمُ عُمُرا مِنْ قَبْلِهِ پہلے اس سے اتنی عمر یعنی چالیس برس تک تم میں ہی رہتا أَفَلَا تَعْقِلُونَ فَمَنْ أَظْلَمُ رہا ہوں پھر کیا تم کو عقل نہیں یعنی کیا تم کو بخوبی معلوم نہیں مِمَّنِ افْتَرى عَلَى الله کہ افترا کرنا میرا کام نہیں اور جھوٹ بولنا میری عادت میں كَذِبًا اَوْ كَذَبَ بِالتِهِ اِنَّہ نہیں اور پھر آگے فرمایا کہ اس شخص سے زیادہ تر اور کون لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ با سورة ظالم ہوگا جو خدا پر افترا باندھے یا خدا کے کلام کو کہے کہ یہ يونس الجزو نمبر ۱۱۔ انسان کا افترا ہے بلاشبہ مجرم نجات نہیں پائیں گے۔ ممکن نہیں کہ جب تک وہ دونوں محرک کسی کے خیال میں نہ ہوں تب تک اس کی دعا میں جوش پیدا ہو سکے۔ سو طبیعی راستہ دعا مانگنے کا وہی ہے جو سورۃ فاتحہ میں ذکر ہو چکا ہے۔ پس سورہ محدوحہ کے لطائف میں سے یہ ایک نہایت عمدہ لطیفہ ہے کہ دعا کو معہ محرکات اس کے کے بیان کیا ہے فتدبر ۔ پھر ایک دوسرا الطیفہ اس سورۃ میں یہ ہے کہ ہدایت کے قبول کرنے کے لئے پورے پورے اسباب ترغیب بیان فرمائے ہیں کیونکہ ترغیب کامل جو معقول طور پر دی جائے ایک زبر دست کشش ہے اور حصر عقلی کے رو سے ترغیب کامل اس ترغیب کا نام ہے جس میں تین مجھ میں موجود ہوں۔ ایک یہ کہ جس شے کی طرف ترغیب دینا منظور ہو اس کی ذاتی خوبی بیان کی جائے سواس خبر کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ یعنی ہم کو وہ راستہ بتلا جو اپنی ذات میں صفت استقامت گیا۔ اس میں دوسطریں تھیں ۔ اول سطر میں یہ انگریزی فقرہ لکھا تھا۔ میں آئی ایم پہلی اور دوسری سطر جو مخط فارق ڈال کر نیچے لکھی ہوئی تھی وہ اسی پہلی سطر کا ترجمہ تھا یعنی یہ لکھا تھا کہ ہاں میں خوش ہوں۔ ایک دفعہ کچھ حزن اور غم کے دن آنے والے تھے کہ ایک کاغذ پر یہ نظر کشفی یہ فقرہ انگریزی میں لکھا ہوا دکھایا گیا۔ لائف آف چین یعنی زندگی دکھ کی۔ ایک دفعہ بعض مخالفوں کے بارہ میں جنہوں نے يونس : ۱۶تا ۱۸