براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 547
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۴۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم بھی زیادہ تقویت پکڑتے ہیں اور بہت سی نظیریں ایسے ہی مکروں اور فریبوں کے (۴۵۲) اپنی ہی قوت حافظہ پیش کرتی ہے بلکہ ہر یک انسان ان مکروں کے بارے میں کیا جائے ممکن نہیں کہ وہ چیز حاصل ہو سکے جس طرح خدا کے تمام قواعد قدیم سے مقرر اور (۴۵۶ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ منضبط ہیں ایسا ہی نجات اور سعادت اخروی کی تحصیل کے لئے ایک خاص طریق مقرر ہے جو مستقیم اور سیدھا ہے ۔ سودعا میں وضع استقامت یہی ہے کہ اسی طریق مستقیم کو خدا سے مانگا جائے ۔ آٹھویں اور نویں اور دسویں صداقت جو سورۃ فاتحہ میں درج ہے۔ مبارک کلام سے ایسی تسلی اور تشفی اس کو عطا ہوتی ہے اور خوشنودی حضرت باری تعالیٰ سے مطلع کیا جاتا ہے جس سے بندہ مکروہات دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی قوت پاتا ہے گویا صبر اور استقامت کے پہاڑ اس کو عطا کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح بذریعہ کلام اعلیٰ درجہ کے علوم اور معارف بھی بندہ کو سکھلائے جاتے ہیں اور وہ اسرار خفیہ و دقائق عمیقہ بتلائے جاتے ہیں کہ جو بغیر تعلیم خاص ربانی کے کسی طرح معلوم نہیں ہو سکتے اور اگر کوئی یہ شبہ پیش کرے کہ یہ تمام امور جن کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ قرآن شریف کے کامل اتباع سے حاصل ہوتے ہیں کیونکر اسلام میں ان کا تحقق فی الخارج ہونا یہ پایہ ثبوت پہنچ سکتا ہے تو اس وہم کا جواب یہ ہے کہ صحبت سے۔ اور اگر چہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں لیکن بغیر اندیشہ طول کے پھر مکر رہر یک مخالف پر ظاہر کرتے ہیں کہ فی الحقیقت یہ دوات عظمی اسلام میں پائی جاتی ہے کسی دوسرے مذہب میں ہرگز پائی نہیں جاتی اور طالب حق کے لئے اس کے ثبوت کے بارے میں ہم آپ ہی ذمہ وار میں بشرط صحبت و حسن ارادت و تحقق مناسبت اور صبر اور ثبات کے یہ امور ہر یک طالب پر بقدر استعداد اور لیاقت ذاتی اُس کے کے کھل سکتے ہیں اور ان امور میں سے جو اخبار غیبیہ ہیں ان کی نسبت یہ شبہ ہر گز نہیں کرنا چاہئے جو اس (۴۵۲) کام میں رمال و پنجم بھی شریک ہیں کیونکہ یہ قوم کسی خاص فن یا قواعد کے ذریعہ سے اخبار غیبیہ کو نہیں بتلاتی اور نہ غیب دان ہونے کا دعویٰ کرتی ہے بلکہ خدا وند کریم جو ان پر مہربان ہے اور ان کے حال پر ایک خاص عنایات و تو جہات رکھتا ہے وہ بعض مصالح کے لحاظ سے بعض امور