براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 512 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 512

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۱۰ براہین اح چهارم بکلی آزاد رکھنا چاہتا تو پھر یہ بھی مناسب نہ تھا کہ اپنی آخری کتاب کو تمام لوگوں (۲۲۷) کے لئے ( جو مختلف زبانیں رکھتے ہیں ) ایک ہی زبان میں جس سے وہ نا آشنا ہیں بھیجتا ۔ کیونکہ غیر زبان کا دریافت کرنا بھی بغیر محنت کے گو تھوڑی ہی ہو ہو جائے اور نیز اعلیٰ درجہ کا یقین مالک حقیقی کے وجود کی نسبت اسی بات پر موقوف ہے کہ وہ مالک حقیقی اسباب معتادہ کو بیکی نیست و نابود کر کے عریاں طور پر جلوہ گر ہو۔ اس لئے یہ صداقت قصویٰ جس سے مطلب انتہائی معرفت اور انتہائی مکافات ہے تب ہی متحقق ہوگی کہ جب وہ تمام باتیں مذکورہ بالا متحقق ہو جائیں کہ جو عند العقل اس کی تعریف میں داخل ہیں کیونکہ انتہائی معرفت بجز اس ۴۲۷ کے عند العقل ممکن نہیں کہ مالک حقیقی کا جمال بطور حق الیقین مشہود ہو یعنی ظہور اور بروز تام ہو جس پر آریا سماج والوں کے دلوں کو بھارہی ہیں اور کیوں وہ ایسے کچے اور پست خیالات پر فریفتہ ہور ہے ہیں۔ اگر وید کا کلام با وجود اس فضول طوالت اور مہمل بیانی اور خبط مضمون کے پھر بھی فصیح اور بلیغ ہی ہے تو پھر غیر فصیح کلام دنیا میں کس کو کہنا چاہیے۔ اور اگر آریا سماج والوں کو یہ معلوم نہیں کہ کلام فصیح کسے کہتے ہیں تو لازم ہے کہ وہ ذرا آنکھ کھول کر بمقابلہ طول طویل وید کے کلام کے جو اوپر تحریر ہو چکا ہے قرآن شریف کی چند آیات پر نظر ڈالیں کہ کس لطافت و ایجاز سے مسائل کثیرہ وحدانیت کو قل و دلّ عبارت میں بیان کرتا ہے اور کس جہد و کوشش سے مسئلہ تو حید کو دل میں بٹھاتا ہے اور کیسی فصیح اور مدلل تقریر سے توحید الہی کو قلوب صافیہ میں منقش کرتا ہے۔ اگر اس کی مانند وید مذکور میں شرتیاں موجود ہوں تو پیش کرنی چاہئیں ورنہ بیہودہ بک بک کرنا اور لا جواب رہ کر پھر محبت اور شر سے باز نہ آنا ان لوگوں کا کام ہے جن لوگوں کو خدا اور ایمانداری سے کچھ بھی غرض نہیں اور نہ حیا اور شرم سے کچھ سروکار ہے۔ اب یہاں ہم بطور نمونہ بمقابلہ وید کی شرتیوں کے کسی قدر آیات قرآن شریف جو وحدانیت الہی کو بیان کرتے ہیں لکھتے ہیں تا ہر یک کو معلوم ہو جائے کہ وید اور قرآن شریف میں سے کس کی عبارت میں لطافت اور ایجاز اور۔ L