براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 511 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 511

روحانی خزائن جلد ۱ براہین احمدیہ حصہ کو بیکار چھوڑ دے تو وہ بھی گھٹتے گھٹتے کالعدم ہو جائے گی ۔ سو یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ اس نے بندوں کو اس طریقہ پر چلانا چاہا جس پر ان کی (۳۲۱) قوت نظریہ کا کمال موقوف ہے ۔ اور اگر خدائے تعالیٰ محنت کرنے سے وسیع عالم میں ظہور پذیر ہو جائے اور تا ان تجلیات تا مہ اور کاملہ سے انسان اُس اعلیٰ درجہ کے شہود تام تک بھی پہنچ جائے کہ جو اس کی بشری طاقتوں کے لئے حد امکان میں داخل ہے اور چونکہ اعلیٰ درجہ کی مکافات عند العقل اسی میں منحصر ہے کہ جو ا مر بطور جزا وارد ہے وہ انسان کے ظاہر و باطن و جسم و جان پر بتمام و کمال دائمی ولازمی طور پر محیط (۴۲۶) بقیه حاشیه نمبر اور کبھی اس مقدس کتاب کا درشن نہیں کیا وہ دل میں یہ وسوسہ کریں کہ یہ شرتیاں جور گوید میں سے لکھی گئی ہیں وہ صحیح طور پر نہیں لکھی گئیں یا شاید ان سے بہتر وید مذکور میں اور شرتیاں ہوں گی جن میں وید نے وحدانیت الہی کے بیان کرنے میں داد فصاحت دی ہوگی یا مخلوق پرستی کو فصیح اور مدلل تقریر میں جو لازمه فصاحت و بلاغت ہے عطا کیا ہوگا سو ایسے وسواسی آدمیوں کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے کہ ہم نے یہ تمام شرتیاں رگوید سنتها استک اول سکت سے ۱۵ اسکت تک بطور نمونہ منتخب کر کے لکھی ہیں ۔ اگر کسی کو یہ دعوئی ہو کہ وہ شرتیاں صحیح نہیں ہیں تو اس پر لازم ہے کہ جو اس کی دانست میں صحیح ترجمہ ہو وہ پیش کرے تا منصف لوگ آپ دیکھ لیں کہ یہ شرتیاں صحیح ہیں یا اُس کی پیش کردہ صحیح ہیں۔ اور اگر کسی کو یہ دعویٰ ہو کہ اگر چہ یہ شرتیاں مہمل اور بے سروپا ہیں۔ مگر اسی رگوید میں ایسی شرتیاں بھی پائی جاتی ہیں جن میں وحدانیت الہی کا بیان نہایت صفائی اور شائستگی سے موجود ہے تو ایسے شخص پر لازم ہے کہ ہمراہ ان شرتیوں کے ان شرتیوں کو بھی پیش کرے تا کہ اگر کسی طرح ہاتھ پاؤں مار کر وید کی بلاغت و خوش بیانی ثابت ہو سکے تو ثابت ہو جائے ہم کو کسی صاحب سے ناحق کی ضد نہیں ہے ۔ ہم اپنے بچے دل سے کہتے ہیں کہ ہم نے بڑی غور اور نذیر سے وید پر نظر کر کے اس کو طریقہ شائستہ بیانی سے بالکل دور اور مہجور پایا ہے۔ اور ہم بڑے افسوس سے لکھتے ہیں کہ ایسی پراگندہ باتیں کیونکر