براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 455 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 455

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۵۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم سمجھ رکھا ہے۔ کیوں نہ ہو ۔ انادی جو ہوئے ۔ خدا کے شریک جو ٹھہرے ۔ اور اگر کسی (۳۷۹) کے دل میں یہ وہم پیدا ہو کہ خدا نے ایک بولی پر کفایت کیوں نہ کی ۔ یہ وہم بھی قلت تدبر سے ناشی ہے ۔ اگر کوئی دانا اقالیم مختلفہ کے اوضاع متفاوتہ اور طبائع متفرقہ پر نظر ایک کامل اور دائمی جزا کہ جو نہایت اصفی اور نہایت اعلیٰ اور نہایت مرغوب اور نہایت محبوب ہے مل رہی ہے۔ کسی قسم کا امتحان اور ابتلا نہیں ہے۔ اور ایسے فیضان اکمل اور اتم اور ابھی اور اعلیٰ اور اجلی سے متمتع ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ بندہ اس عالم ناقص اور مکدر اور کثیف اور تنگ اور منقبض اور نا پائیدار اور مشتبہ الحال سے دوسرے عالم کی طرف انتقال کرے کیونکہ یہ فیضان تجلیات (۳۷۹) عظمی کا مظہر ہے جن میں شرط ہے کہ محسن حقیقی کا جمال بطور عریاں اور بمرتبہ حق الیقین مشہود ہو ۔ 11 اور کوئی مرتبہ شہود اور ظہور اور یقین کا باقی نہ رہ جائے ۔ اور کوئی پردہ اسباب معتادہ کا درمیان نہ ہو۔ اور ہر یک دقیقہ معرفت تامہ کا مکمن قوت سے خیبر فعل میں آ جائے۔ اور نیز فیضان بھی ایسا منکشف اور معلوم الحقیقت ہو کہ اس کی نسبت آپ خدا نے یہ ظاہر کر دیا ہو کہ وہ ہر یک امتحان اور ابتلاء کی کدورت سے پاک ہے اور نیز اس فیضان میں وہ اعلیٰ اور اکمل درجہ کی لذتیں ہوں جن کی پاک اور کامل کیفیت انسان کے دل اور روح اور ظاہر اور باطن اور جسم اور جان اور ہر یک روحانی اور بدنی قوت پر ایسا اکمل اور ابھی احاطہ رکھتی ہو کہ جس پر عقلا اور خیالا اور وہما زیادت متصور نہ ہو ۔ اور یہ عالم کہ جو ناقص الحقیقت اور مکدر الصورت اور ہالکۃ الذات اور مشتبہ الکیفیت اور ضیق النظرف ہے۔ ان تجلیات عظمیٰ اور انوار اصفی اور عطیات دائمی کی برداشت نہیں کر سکتا ۔ اور وہ اشعہ تامہ کاملہ دائمہ اس میں سانہیں سکتے بلکہ اس کے ظہور کے لئے ایک دوسرا عالم درکار ہے کہ جو اسباب معتادہ کی ظلمت سے بکلی پاک اور منزہ اور ذات واحد قہار کی شفاف اس میں بہتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ جن امور میں فساد دیکھا ہے انہیں کی اصلاح کے لئے ۳۷۹ زور مارا ہے۔ جس شدت سے کسی افراط یا تفریط کا غلبہ پایا ہے اسی شدت سے اس کی مدافعت بھی کی ہے۔ جن انواع اقسام کی بیماریاں پھیلی ہوئی دیکھی ہیں ان سب کا