براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 436
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۳۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۶۳) بجز خدائے تعالیٰ کے اور کوئی حضرت آدم کے لئے رفیق شفیق نہ تھا کہ جو ان کو بولنا سکھاتا ۔ پھر اپنی تعلیم سے شائستگی اور تہذیب کے مرتبہ تک پہنچا تا ۔ بلکہ حضرت شیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه ن مقابلہ پر کسی دینی یا دنیوی معاملہ میں ذرا ایک آدھ گھنٹہ تک ہم کو بول کر تو دکھاوے تا اول یہی لوگوں پر کھلے کہ اس کو سیدھی سادھی اور با محاورہ اہل عرب کے مذاق پر بات چیت کرنی آتی ہے یا نہیں۔ کیونکہ ہم کو یقین ہے کہ اس کو ہرگز نہیں آتی اور ہم یہ یقین تمام جانتے ہیں کہ اگر ہم کسی عربی آدمی کو اس کے سامنے بولنے کے لئے پیش کریں تو وہ عربوں کی طرح اور ان کے مذاق پر ایک چھوٹا سا قصہ بھی بیان نہ کر سکے اور جہالت کے کیچڑ میں پھنسا رہ جائے اور اگر شک ہے تو اس کو قسم ہے کہ آزما کر دیکھ لے۔ اور ہم خود اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ اگر پادری عمادالدین صاحب ہم سے درخواست کریں تو ہم کوئی عربی آدمی بہم پہنچا کر کسی مقررہ تاریخ پر ایک جلسہ کریں گے جس میں چند لائق ہندو ہوں گے اور چند مولوی مسلمان بھی ہوں گے اور عماد الدین صاحب پر لازم ہوگا کہ وہ بھی چند عیسائی بھائی اپنے ساتھ لے آویں اور پھر سب حاضرین کے رو بر و اول عماد الدین صاحب کوئی قصہ جو اسی وقت ان کو بتلایا جائے گا عربی زبان میں بیان کریں۔ اور پھر وہی قصہ وہ عربی صاحب کہ جو مقابل پر حاضر ہوں گے اپنی زبان میں بیان فرمادیں۔ پھر اگر منصفوں نے یہ رائے دے دی کہ عماد الدین صاحب نے ٹھیک ٹھیک عربوں کے مذاق پر عمدہ اور لطیف تقریر کی ہے تو ہم تسلیم کر لیں گے کہ ان کا اہل زبان پر نکتہ چینی کرنا کچھ جائے تعجب نہیں بلکہ اسی وقت پچاس روپیہ نقد بطور انعام ان کو دئیے جائیں گے لیکن اگر اس وقت عماد الدین صاحب بجائے فصیح اور بلیغ تقریر کے اپنے ژولیدہ اور غلط بیان کی بدبو پھیلانے لگے یا اپنی رسوائی اور نالیاقتی سے ڈر کر کسی اخبار کے ذریعہ سے یہ اطلاع بھی نہ دی کہ میں ایسے مقابلہ کے لئے حاضر ہوں تو پھر ہم بجز اس کے کہ لعنت اللہ علی الکاذبین کہیں پاداش میں اصول انصاف تو یہی ہے کہ بد کن آدمی اسی قدر بدی کا سزاوار ہے جس قدر اس نے بدی کی ہے پر جو شخص عفو کر کے کوئی اصلاح کا کام بجالائے پہنے ایسا عفونہ ہو جس کا نتیجہ کوئی خرابی ہو سو اُس کا اجر خدا پر ہے اور ایسا ہی جامعیت اور کمال شریعت کی طرف