براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 332
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۳۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۲۸۵ میں سے ہے اور انہیں کلمات اور الفاظ سے مرکب ہے جن سے ہمارا کلام مرکب ہے ۲۸۵ خود تراشیدہ باتوں سے کن ثمرات کی توقع ہے۔ کیوں بچے طالبوں کی طرح اس خدا کو نہیں ڈھونڈتے کہ جو قا در توانا اور جیتا جاگتا ہے۔ اور اپنے وجود پر آپ اطلاع دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ اور انی انا اللہ کی آواز سے مردوں کو ایک دم میں زندہ کر سکتا ہے۔ جب یہ لوگ خود جانتے ہیں کہ عقل کی روشنی دور آمیز ہے تو پھر کامل روشنی کے کیوں خواہاں نہیں ہوتے ۔ عجب احمق ہیں کہ اپنے مریض ہونے کے تو قائل ہیں پر علاج کا کچھ فکر نہیں۔ ہائے افسوس کیوں ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں تا وہ حق الامر کو دیکھ لیں۔ کیوں ان کے کانوں پر سے پردہ نہیں اٹھتا تا وہ حقانی آواز کوسن لیں۔ کیوں ان کے دل ایسے کجرو اور ان کی سمجھیں ایسی الٹی ہو گئیں کہ جو اعتراض حقیقت میں انہیں پر وارد ہوتا تھا وہ الہام حقیقی کے تابعین پر کرنے لگے۔ کیا ابھی تک ہم نے ان کو یہ ثابت کر کے نہیں دکھلایا کہ وہ معرفت الہی میں نہایت ناقص اور خطرہ کی حالت میں ہیں۔ کیا ہم نے ابھی تک ان پر یہ ظاہر نہیں کیا کہ معرفت تامه و کاملہ صرف قرآن شریف کے ذریعہ سے حاصل ہوسکتی ہے دیس۔ پھر جب کہ ہر یک طور سے انہیں کا جھوٹا اور غلطی پر ہونا ثابت ہو چکا ہے تو پھر یہ کیسی ایمانداری اور دیانت شعاری ہے کہ اپنے گھر کے ماتم سے بے خبر رہ کر اہل اسلام کو بیمار قرار دیتے ہیں اور خبث اور شر کی باتیں مونہہ پر لاتے ہیں جن سے یقینا سمجھا جاتا ہے کہ ان کو راست روی سے کچھ بھی غرض اور تعلق نہیں۔ اور یہ باتیں ان کی باتیں نہیں ہیں بلکہ حسد اور تعصب کا بد بودار خوان ہے۔ اس وہم کا نعیمہ بر ہمو سماج والوں کا ایک اور و ہم بھی ہے کہ الہام ایک قید ہے اور ہم ہر یک قید سے آزاد ہیں بھنے ہم اچھے ہیں کیونکہ آزاد قیدی سے اچھا ہوتا ہے۔ ہم اس نکتہ چینی کو مانتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ بلاشبہ الہام ایک قید ہے مگر ایسی قید ہے کہ جس کے بغیر کچی آزادی حاصل ہونا ممکن نہیں۔ کیونکہ سچی آزادی وہ ہے کہ انسان کو ہر یک نوع کی غلطی اور شکوک اور شبہات سے نجات ہو کر مرتبہ یقین کامل کا حاصل نہیں تھا۔ تو پھر یہ جو ہر کس دن کے لئے چھپا رکھا ہے۔ جب آپ ایسے ہی لائق