براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 331
روحانی خزائن جلد 1 ۳۲۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم } اعتراض بنا رکھا ہے کہ جس حالت میں خدا کا کلام بھی ہمارے کلام کی جنس ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ میں نے کھائی تو کبھی نہیں پر میرے دادا جی بات کیا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم نے کسی کو کھاتے دیکھا ہے۔ غرض جب تک کوئی سامعین کی نظر میں کسی واقعہ پر بکی محیط نہ ہو۔ تب تک بجائے اس کے کہ اس کا کلام دلوں پر کچھ اثر کرے خواہ نخواہ ٹھٹھا اور ہنسی کرانے کا موجب ٹھہرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجرد عقلمندوں کی خشک تقریروں نے کسی کو عالم آخرت کی طرف یقینی طور پر متوجہ نہیں کیا ۔ اور لوگ یہی سمجھتے رہے کہ جیسا یہ لوگ صرف انکل سے باتیں کرتے ہیں۔ علی ہذا القیاس ہم بھی ان کی رائے کے مخالف انکلیں دوڑا سکتے ہیں۔ نہ انہوں نے موقعہ پر جا کر اصل حقیقت کو دیکھا نہ ہم نے۔ اسی باعث سے جب ایک طرف بعض عقلمندوں نے خدا کی ہستی پر رائے ظاہر کرنی شروع کی تو دوسرے عقلمندوں نے ان کے مخالف ہو کر دہر یہ مذہب کی تائید میں کتابیں تصنیف کیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ان عاقلوں کا فرقہ کہ جو خدا کی ہستی کے کسی قدر قائل تھے وہ بھی دہر یہ پن کی رگ سے کبھی خالی نہیں ہوا اور نہ اب خالی ہے۔ انہیں پر ہمولوگوں کو دیکھو ۔ کب وہ خدا کو کامل صفتوں سے متصف سمجھتے ہیں۔ کب ان کو اقرار ہے کہ خدا گونگا نہیں بلکہ اس میں حقیقی طور پر صفت تکلم بھی ہے جیسی ایک جیتے جاگتے میں ہونی چاہئے ۔ کب وہ اس کو حقانی طور پر پورا پورا مد تیر اور رزاق سمجھتے ہیں ۔ کب ان کو اس بات پر ایمان ہے کہ حقیقت میں خدامی و قیوم ہے اور اپنی آواز میں صادق دلوں تک پہنچا سکتا ہے۔ بلکہ وہ تو اس کے وجود کو ایک موہومی اور مردہ سا خیال کرتے ہیں کہ جس کو عقل انسانی صرف اپنے ہی تصورات سے ایک فرضی طور پر ٹھہرا لیتی ہے۔ اور اس طرف سے زندوں کی طرح کبھی آواز نہیں آتی ۔ گویا وہ خدا نہیں ایک بت ہی ہے کہ جو کسی گوشہ میں پڑا ہے۔ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ میں متعجب ہوں کہ ایسے کچے اور ضعیف خیالات سے کیونکر یہ لوگ خوش ہوئے بیٹھے ہیں۔ اور ایسی رہنے کا آپ کی ہمت سے دھویا جائے ۔ اور ان سب کے علاوہ دس ہزار روپیہ ہاتھ لگے (۲۵) دست کش ہیں۔ اگر آپ کی ذات شریف میں ایسا ہنر حاصل ہے کہ جو حضرت مسیح کو بھی