براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 326
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۲۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۲۸۰ ۲۸۰ بھرے ہوئے ہونا یہ ایسا امر نہیں ہے کہ جو فقط تجربہ سے ثابت ہوا ہو بلکہ دلائل عقلیہ جس امر کو میں ناجائز سمجھتا ہوں وہ جائز ہی ہو یا جس کو میں جائز قرار دیتا ہوں وہ حقیقت میں نا جائز ہو۔ البتہ ایسے سوالات اس وقت پیش آسکتے تھے اور ایسے وساوس اس حالت میں دلوں میں اٹھ سکتے تھے کہ جب سارا مدار قیاسات عقلیہ پر ہوتا اور عقل انسانی پر ہمو سماج والوں کی عقل کی طرح اپنے دوسرے رفیق کے اتفاق اور اشتمال سے محروم اور بے نصیب ہوتی ۔ لیکن الہام حقیقی کے تابعین کی عقل ایسی غریب اور بے کس نہیں بلکہ اس کا مد و معاون خدا کا کلام کامل ہے جو سلسلہ تحقیقات کو اپنے مرکز اصلی تک پہنچاتا ہے اور وہ مرتبہ یقین اور معرفت کا بخشتا ہے کہ جس کے آگے قدم رکھنے کی گنجائش ہی نہیں کیونکہ ایک طرف تو دلائل عقلیہ کو باستیفا بیان کرتا ہے۔ اور دوسری طرف خود وہ بے مثل و مانند ہونے کی وجہ سے خدا اور اس کی ہدا یتوں پر یقین لانے کے لئے حجت قاطعہ ہے۔ سو اس دوہرے ثبوت سے جس قدر طالب حق کو مرتبہ حق الیقین حاصل ہوتا ہے اس مرتبہ کا قدر وہی شخص جانتا ہے کہ جو بچے دل سے خدا کو ڈھونڈتا ہے ۔ اور وہی اس کو چاہتا ہے کہ جو روح کی سچائی سے خدا کا طالب ہے لیکن بر ہمو سماج والے جن کا یہ اصول ہے کہ ایسی کوئی کتاب یا ایسا کوئی انسان نہیں جس میں غلطی کا امکان نہ ہو کیونکر اس مرتبہ یقین تک پہنچ سکتے ہیں۔ جب تک اس شیطانی اصول سے تو بہ کر کے یقینی راہ کے طالب نہ ہوں ۔ کیونکہ جس حالت میں اب تک برہمو سماج والوں کو خود با قراران کے ایسی کوئی کتاب نہیں ملی ۔ اور نہ انہوں نے آپ بنائی کہ جو ایسے مسائل کا مجموعہ ہو کہ جو غلطی سے خالی ہوں تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ اب تک ایمان ان کا ورطہ شبہات میں ڈوبتا پھرتا ہے اور یہ اصول ان کا صاف دلالت کرتا ہے کہ ان کو خدا شناسی کے مسائل میں سے کسی مسئلہ پر یقین حاصل نہیں اور ان کے نزدیک یہ بات محالات میں سے ہے کہ کوئی کتاب علم دین میں صحیح مسائل کا مجموعہ ہو۔ بلکہ انہوں نے چرائے گئے ہیں ۔ اسی طرح دیا نند پنڈت بھی اپنی تالیفات میں شور مچا رہا ہے کہ توریت ہمارے پستکوں سے کاٹ چھانٹ کر بنائی گئی ہے اور اب تک ہون وغیرہ کی رسم وید کی طرح اس