براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 325
روحانی خزائن جلد 1 ۳۲۳ براہین اح چهارم یعنی اس کی ذات اور صفات اور افعال کا شرکت غیر سے پاک ہونا اور قدرت کاملہ سے ایسا کہ پھر ذرہ شک کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ اور ایسے امر ثابت شدہ پر شک کرنا ان سودائیوں ﴿۲۷۹ کے اور وہمیوں اور سوفسطائیوں کا کام ہے جن کے دل اصل فطرت سے ایسے مغلوب الوہم ہیں کہ کسی صداقت پر بظن غالب اعتقاد کرنا بھی ان کو نصیب نہیں ہوتا اور ہمیشہ شکوک اور شبہات میں ڈوبے رہتے ہیں اور گوروشنی کیسی ہی اپنے کمال کو پہنچ جائے مگر ان کی جیلی کو ر باطنی کہ جو خفاش کی طرح ان کی پیدائش کو لازم ذاتی ہے کچھ رو بہ کمی نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ خدا کے وجود میں بھی ہمیشہ ان کو د بدھا ہی رہتی ہے۔ پس ایسے اندھوں کی بیماری حقیقت میں لا علاج ہے۔ ورنہ جس شخص کو ایک ذرہ سی بصیرت بھی حاصل ہے۔ وہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جب سلسلہ تحقیق اور تدقیق کا اس حد تک پہنچ جائے کہ حقیقت واقعی بکلی منکشف ہو جائے اور چاروں طرف سے دلائل واضحہ اور شواہد قاطعہ آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے نکل آویں تو ام تنقیح اور تفتیش کا وہیں ختم ہو جاتا ہے اور طالب حق کو اسی جگہ مضبوطی سے قدم مارنا پڑتا ہے اور انسان کو بجز ماننے اس کے کچھ بن نہیں پڑتا اور خود ظاہر ہے کہ جب مکمل ثبوت ہاتھ میں آ گیا اور ہر ایک گوشہ امر مبحوث عنہ کا صبح صادق کی طرح کھل گیا اور حق الامر کا چہرہ بکمال صفائی نمودار ہو گیا تو پھر کیوں دانشمند اور صحیح الحواس انسان اس میں شک کرے۔ اور کیا وجہ کہ سلیم العقل انسان کا دل پھر بھی اس پر تسلی نہ پکڑے۔ ہاں جب تک امکان غلطی باقی ہے اور بصفائی تمام انکشاف نہیں ہوا۔ تب تک غور اور فکر کا گھوڑا آگے سے آگے دوڑ سکتا ہے اور نظر ثانی در نظر ثانی ہوسکتی ہے نہ یہ کہ ثابت شدہ صداقت میں بھی و ہمیوں کی طرح شک کر کے بیہودہ وساوس میں پڑتے جائیں اس کا نام خیالات کی ترقی نہیں۔ یہ تو مادہ سودا کی ترقی ہے جس شخص پر ایک امر کے جواز یا عدم جواز کی نسبت حال واقعی اظہر من الشمس ہو گیا تو پھر کیا وہ مد ہوش یا دیوانہ ہے کہ باوصف اس انکشاف نام کے پھر بھی اپنے دل میں یہ سوال کرے کہ شاید آپ کا اس قسم کا ہے ۔ جیسے تمام یہودی اب تک باصرار تمام کہتے ہیں کہ مسیح (۲۷۹) نے انجیل کو ہمارے نبیوں کی کتب مقدسہ سے چُرا کر بنا لیا ہے ۔ بلکہ ان کے علماء اور احبار تو کتا ہیں کھول کھول کر بتلاتے ہیں کہ اس اس جگہ سے فقرات نوٹ: مضمون کے تسلسل کے لئے دیکھئے صفحہ ۳۱ براہین احمدیہ حصہ سوم ( شمس )