براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 242
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۴۰ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۱۷ امتیاز رکھتا ہو ۔ سو یہی کمالیت قرآن شریف میں ثابت ہے ۔ غرض خدا کے کلام کا ۲۷ انسان کے کلام سے ایسا فرق بین چاہئے ۔ جیسا خدا اور انسان کے علم اور عقل سواب ہم بر ہمولوگوں اور دوسرے مخالفین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے الہام کی نسبت بیان کیا ہے یعنے یہ کہ وہ اب بھی امت محمدیہ کے کامل افراد میں پایا جاتا ہے اور انہیں سے مخصوص ہے ان کے غیر میں ہرگز پایا نہیں جاتا۔ یہ بیان ہمارا بلا ثبوت نہیں بلکہ جیسا بذریعہ تجربہ ہزار با صداقتیں دریافت ہو رہی ہیں۔ ایسا ہی یہ بھی تجربہ اور امتحان سے ہر یک طالب پر ظاہر ہوسکتا ہے۔ اور اگر کسی کو طلب حق ہو تو اس کا ثابت کر دکھانا بھی ہمارا ہی ذمہ ہے بشرطیکہ کوئی برہمو یا اور کوئی منکر دین اسلام کا طالب حق بن کر اور بصدق دل دین اسلام قبول کرنے کا وعدہ تحریری مشتہر کر کے اخلاص اور نیک نیتی اور اطاعت سے رجوع کرے۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِین بلے بعض لوگ یہ و ہم بھی پیش کرتے ہیں کہ جس حالت میں امور غیبیہ کے بتانے والے دنیا میں کئی فرقے پائے جاتے ہیں کہ جو بھی نہ کبھی اور کچھ نہ کچھ بتلا دیتے ہیں اور بعض اوقات کسی قدر ان کا مقولہ بھی سچ ہو رہتا ہے۔ جیسے منجم ۔ طبیب۔ قیافہ دان۔ کا ہن۔ رمال ۔ جفری فال بین اور بعض بعض مجانین اور حال کے زمانہ میں مسمریزم کہ بعض اموران سے مکشوف ہوتے رہے ہیں تو پھر امور غیبیہ الہام کی حقانیت پر کیونکر محبت قاطع ہوں گے۔اس کے جواب میں سمجھنا چاہیئے کہ یہ تمام فرقے جن کا اوپر ذکر ہوا صرف ظن اور تخمین بلکہ وہم پرستی سے باتیں کرتے ہیں یقینی اور قطعی علم ان کو ہرگز نہیں ہوتا۔ اور نہ ان کا ایسا دعویٰ ہوتا ہے اور بعض حوادث کو نیہ سے جو یہ لوگ اطلاع دیتے ہیں تو ان کی پیشین گوئیوں کا ماخذ صرف علامات و اسباب ظنیہ ہوتے ہیں جنہوں نے قطع اور یقین کے مرتبہ سے مس بھی نہیں کیا ہوتا اور احتمال تلمیس اور اشتباہ اور خطا کا اُن سے مرتفع نہیں ہوتا۔ بلکہ اکثر ان کی خبریں سراسر بے اصل اور بے بنیاد اور دروغ محض نکلتی ہیں۔ اور باوصف اس کذب فاش اور خلاف واقعہ نکلنے کے ان کی پیشین گوئیوں میں عزت اور قبولیت اور منصور تیت اور کامیابی کے انوار پائے نہیں جاتے ۔ اور ایسے خبریں بتانے والے اپنی ذاتی حالت میں اکثر افلاس زدہ اور بدنصیب اور بد بخت اور ال عمران: ۶۴