براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 241
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۳۹ براہین احمدیہ حصہ سوم انسان کے ناقص علم سے متشابہ نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ ضرور ہے کہ جو کلام اس کامل اور بے مثل علم سے نکلا ہے ۔ وہ بھی کامل اور بے مثل ہی ہو ۔ اور انسانی کلاموں سے بکلی (۲۶) اپنی تمام برکت اور عزت اور عظمت اور جلال کے ساتھ صرف ان عزت دار بندوں میں پایا۔ 1 ، نمبرا جاتا ہے کہ جو امت محمدیہ میں داخل ہیں اور خدام آنحضرت والا جاو ہیں ۔ دوسرے کسی فرقہ میں یہ نور کامل کہ جو تقرب اور قبولیت اور خوشنودی حضرت عزت کی بشارتیں بخشا ہے ہر گز پایا نہیں جاتا اس لئے وجود اس مبارک الہام کا صرف نفس الہام کی حقانیت کو ثابت نہیں کرتا ۔ (۲۱۶) کے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ دنیا میں مقبول اور مستقیم دین پر جو فرقہ ہے وہ فقط اہل اسلام ہی کا فرقہ ہے اور باقی سب لوگ باطل پرست اور کجرو اور مور د غضب الہی ہیں۔ نادان لوگ میری اس بات کو سنتے ہی طرح طرح کی باتیں بنائیں گے اور انکار سے سر ہلائیں گے یا احمقوں اور شریروں کی طرح ٹھٹھا کریں گے ۔ مگر ان کو سمجھنا چاہیئے کہ خواہ نخواہ انکار اور نسی سے پیش آنا شریف النفس اور طالب الحق انسانوں کا کام نہیں۔ بلکہ ان خبیث الطیت اور شریر النفس لوگوں کا کام ہے جن کو خدا اور راستی سے غرض نہیں۔ دنیا میں ہزار ہا چیزوں میں ایسے خواص ہیں کہ جو عقلی طور پر سمجھے نہیں جاتے صرف تجربہ سے انسان ان کو سمجھتا ہے ۔ اسی وجہ سے عام طور پر تمام عقلمندوں کا یہی قاعدہ ہے کہ جب تکرار تجربہ سے کسی چیز کی خاصیت ظاہر ہو جاتی ہے تو پھر اس خاصیت کے تحقیق وجود میں کسی عاقل کو شک باقی نہیں رہتا۔ اور آزمانے کے بعد وہی شخص شک کرتا ہے کہ جو نرا گدھا ہے۔ مثلا تر بد میں جو قوت اسہال ہے یا مقناطیس میں جو قوت جذب ہے۔ اگر چہ اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں کہ کیوں ان میں یہ قو تیں ہیں ۔ لیکن جبکہ تکرار تجر به صاف ظاہر کرتا ہے کہ ضرور ان چیزوں میں یہ قو تیں پائی جاتی ہیں۔ تو گو ان کی کیفیت وجود پر عقلی طور پر کوئی دلیل قائم نہ ہو۔ لیکن بعضرورت شہادت قاطعہ تجربہ اور امتحان کے ہریک عاقل کو ماننا پڑتا ہے کہ فی الحقیقت تربد میں قوت اسہال اور مغناطیس میں خاصہ جذب موجود ہے۔ اور اگر کوئی ان کے وجود سے اس بناء پر انکار کرے کہ عقلی طور پر مجھ کو کوئی دلیل نہیں ملتی تو ایسے شخص کو ہر یک دانا پاگل اور دیوانہ جانتا ہے اور سودائی اور مسلوب العقل قرار دیتا ہے۔