براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 221
۲۱۹ براہین احمدیہ حصہ سوم روحانی خزائن جلد ۱ اول درجہ پر رہے گا کہ جو علمی طاقتوں اور وسعت معلومات اور عام واقفیت اور ملکہ علوم دقیقہ میں سب سے اعلیٰ اور مشق اور ورزش املاء وانشاء میں سب سے زیادہ تر ۲۰۱۵ تو حید کی خبر بطور سماع نہیں پہنچی بلکہ اس نے صرف اپنی ہی عقل کے زور سے اس مسئلہ کو پیدا کیا تو اس صورت میں یہ ثابت کر کے دکھلانا چاہیئے کہ بانی مذکور کے وقت میں یعنے جس زمانہ میں برہمومذہب کا بانی مبانی ایک مذہب جاری کرنے لگا۔ اس وقت ہندوستان میں بذریعہ قرآن شریف ابھی تو حید نہیں پھیلی تھی کیونکہ اگر پھیل چکی تھی تو پھر تو حید کا دریافت کرنا ایک ایجاد خیال نہیں کیا جائے گا بلکہ یقینی طور پر یہی سمجھا جائے گا کہ اس پر ہمومذہب بر کے بانی نے قرآن شریف سے ہی مسئلہ تو حید کو حاصل کیا تھا بہر حال جب تک آپ لوگ دلائل قویہ سے میری اس رائے کو رڈ نہ کریں تب تک یہی ثابت ہے کہ آپ لوگوں نے قرآن شریف سے ہی مسئلہ وحدانیت الہی معلوم کیا مگر نمک حرام آدمی کی طرح کا فر نعمت رہے اور اپنے محسن اور مُربی کا شکر بجا نہ لائے بلکہ ان لوگوں کی طرح جن کی طینت میں خبث اور فساد ہوتا ہے بجائے شکر بجالانے کے بد گوئی اختیار کی ۔ ماسوائے اس کے تمام تواریخ دان بخوبی جانتے ہیں کہ از منہ سابقہ میں بھی جب کسی نے خدا کے نام اور اس کی صفات کا ملہ سے پوری پوری واقفیت حاصل کی تو الہام ہی کے ذریعہ سے کی اور عقل کے ذریعہ سے کسی زمانہ میں بھی تو حید الہی شائع نہ ہوئی یہی وجہ ہے کہ جس جگہ الہام نہ پہنچا اس جگہ کے لوگ خدا کے نام سے بے خبر اور حیوانات کی طرح بے تمیز اور بے تہذیب رہے کون کوئی ایسی کتاب ہمارے سامنے پیش کر سکتا ہے کہ جو از منہ سابقہ میں سے کسی زمانہ میں علم الہی کے بیان میں تصنیف ہوئی ہو اور حقیقی سچائیوں پر مشتمل ہو جس میں مصنف نے یہ دعوی کیا ہو کہ اس نے خدا شناسی کے مستقیم راہ کو بذریعہ الہام حاصل نہیں کیا اور نہ خدائے واحد کی ہستی پر بطور سماع اطلاع پائی ہے بلکہ خدا کا پتہ لگانے اور صفات الہیہ کے جاننے اور معلوم کرنے میں صرف اپنی ہی متقل اور اپنے ہی فکر اور اپنی ہی ریاضت اور اپنی ہی عرق ریزی سے مدد ملی ہے اور بلا تعلیم غیرے آپ ہی مسئلہ وحدانیت الہی (۲۰۱)