براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 220
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۱۸ براہین احمدیہ حصہ سوم نمبر ۲۰۰ سے بکلی منزہ اور پاک ہو ۔ اور سراسرحق اور حکمت اور فصاحت اور بلاغت اور حقائق اور معارف سے بھرا ہوا ہو تو ایسے مضمون کے لکھنے میں وہی شخص سب سے پیچھے سے بڑے بڑے منطقی بن کر ان پر حاشیئے چڑھاتے گئے ۔ انہوں نے صد با مصنوعی پر میشر بنانے یا آپ ہی پر میشر بن جانے میں وہ کمال دکھلایا جس سے ان کی نظروں اور فکروں کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ وہ طرح طرح کے اوہام سوداویہ میں پڑ کر ذات مد بر عالم کے حقیقی وجود اور اس کی تمام صفات کا ملہ سے منکر ہو گئے اور جو کچھ ان کے اپنشدوں اور پرانوں اور پستکوں نے ہندوؤں کے دلوں میں تاثیریں کیں اور جن جن تو ہمات میں ان کو ڈال دیا اور جن راہوں پر ان کو قائم کردیا اور جن چیزوں کی پرستش کی طرف انہیں جھکا دیا وہ ایسا امر ہیں ہے کہ جو کسی پر پوشیدہ ہو یا کسی کے چھپانے سے چھپ سکے یا کسی کے انکار سے مشتبہ ہو جائے علی ھذا القیاس یونانیوں کا بھی یہی حال تھا۔ انہوں نے بھی کوے کی طرح زیرک کہلا کر پھر شرک کی نجاست کھائی اور مجرد معقل نے کسی زمانہ میں کوئی ایسی جماعت طیار نہ کی جو توحید خالص پر قائم ہوتی اور میں نے بخوبی تحقیق کیا ہے کہ پر ہمو سماج والوں کی توحید کی طرف مائل ہونے کی بھی یہی اصل ہے کہ جو ان کے بعض بزرگوں میں سے وہ شخص جو بانی مبانی اس مذہب کا تھا۔ اس نے قرآن شریف ہی سے کسی قدر تو حید کا حصہ حاصل کیا تھا مگر اپنی بدنصیبی سے پوری توحید حاصل نہ کر سکا پھر وہی تخم تو حید جو خدا کی کلام سے لیا گیا تھا ہر ہم سماج والوں میں پھیلتا گیا اگر کسی صاحب کو حضرات برہمو میں سے ہماری اس تحقیق میں کچھ کلام ہو تو لازم ہے کہ وہ ہمارے اس سوال کا مدلل طور پر جواب دیں کہ ان کو مسئلہ تو حید کا کیونکر حاصل ہوا آیا بطور سماع پہنچایا ان کے کسی بانی نے صرف اپنی عقل سے ایجاد کیا اگر بطور سماع پہنچا تو کھول کر بیان کرنا چاہیئے کہ بجز قرآن شریف اور کون سی کتاب تھی جس نے خدا کا واحد لاشریک ہونا اور عیال و اطفال سے پاک ہونا اور حلول اور تجسم سے منزہ رہنا اور اپنی ذات اور جمیع صفات میں کامل اور یگانہ ہونا اس زمانہ میں خطہ ہندوستان میں مشہور کر رکھا تھا جس سے یہ مسئلہ تو حید ان کو حاصل ہوا اس کتاب کا نام جتلانا چاہیئے اور اگر یہ دعوئی ہے کہ اس پانی کو ۲۰۰