براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 158
روحانی خزائن جلد ۱ ، حاشیه نمبر براہین احمدیہ حصہ سوم کوئی بھی ایسی چیز ہم کو معلوم نہیں ہوتی جس کے بنانے پر انسان بھی قدرت رکھتا ہو بلکہ ان چیزوں کی بناوٹ اور ترکیب پر غور کرنے سے ایسے عجائب کام دست قدرت کے ثابت کرتی ہے خود موجود ہونا ثابت نہیں کر سکتی ۔ اور کسی وجود کی ضرورت کا ثابت ہونا شے دیگر ہے اور خود اس وجود ہی کا ثابت ہو جانا یہ اور بات ہے۔ پس جس کے نزدیک معرفت الہی صرف مخلوقات کے ملاحظہ تک ہی ختم ہے۔ اس کے پاس اس اقرار کرنے کا کوئی سامان موجود نہیں کہ خدا فی الواقعہ موجود ہے بلکہ اس کے علم کا اندازہ صرف اس قدر ہے کہ ہونا چاہیے اور وہ بھی تب کہ جب و ہر یہ مذہب کی طرف نہ جھک جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ حکماء متقدمین میں سے محض قیاسی دلائل کے پابند رہے انہوں نے بڑی بڑی غلطیاں کیں اور صد با طرح کا اختلاف ڈال کر بغیر تصفیہ کرنے کے گزر گئے اور خاتمہ ان کا ایسی بے آرامی میں ہوا کہ ہزارہا شکوک اور فنون میں پڑ کر اکثر ان میں سے دہرئیے اور طبعی اور محمد ہوکر مرے اور فلسفہ کے کاغذوں کی کشتی ان کو کنارے تک نہ پہنچا سکی ۔ کیونکہ ایک طرف تو حب دنیا نے انہیں دبائے رکھا اور دوسری طرف انہیں واقعی طور پر معلوم نہ ہوا کہ آگے کیا پیش آنے والا ہے ۔ سو بڑی بے قراری کی حالت میں حق الیقین سے دور اور مہجور رہ کر اس عالم سے انہوں نے سفر کیا۔ اور اس بارے میں ان کا آپ ہی اقرار ہے کہ ہمارا علم صانع عالم اور دوسرے امور آخرت کی نسبت من حيث الیقین نہیں بلکہ من حيث ماهو اشبہ ہے یعنے اس قسم کا ادراک ہے کہ جیسے کوئی بغیر اطلاع حقیقت حال کے یونہی اٹکل سے ایک چیز کی نسبت کہے کہ اس چیز کی حالت کے یہی لائق ہے کہ ایسی ہو اور اصل میں نہ جانتا ہو کہ ایسی ہے یا نہیں ۔ حکیموں نے جس امر کو اپنی رائے میں دیکھا کہ ایسا ہونا مناسب ہے اُس کو اپنے گھر میں ہی تجویز کر لیا کہ ایسا ہی ہوگا ۔ جیسے کوئی کہے کہ مثلاً زید کا اس وقت ہمارے پاس آنا مناسب ہے۔ پھر آپ ہی دل میں ٹھہرالے کہ ضرور آتا ہوگا۔ اور پھر سوچے کہ زید کا گھوڑے پر ہی آنا لائق ہے اور پھر تصور کر لے کہ گھوڑے پر ہی آیا ہوگا۔ ایسا ہی حکیم لوگ انکلوں پر اپنا کام چلاتے رہے اور خدا کو موجود فی الحقیقت یقین کرنا انہیں نصیب نہ ہوا بلکہ ان کی عقل نے اگر بہت ہی ٹھیک ٹھیک دوڑ کی تو فقط اس قدر کی ۱۵۱