براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 152

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۵۰ براہین احمدیہ حصہ سوم ہر یک صادر من اللہ سے متعلق ہے۔ دو طور سے ثابت ہوتا ہے۔ اول قیاس سے ۔ کیونکہ از روئے قیاس صحیح ومستحکم کے خدا کا اپنی ذات اور صفات اور افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری ہے اور اس کی کسی صنعت یا قول یا فعل میں شراکت مخلوق کی جائز نہیں۔ دلیل اس پر یہ ہے کہ اگر اس کی کسی صنعت یا قول یا فعل میں شراکت مخلوق کی جائز ہو تو البتہ اس جگہ پر بعض نادان ( جن کو عمیق فکر کرنے کی عادت نہیں ) یہ وسوسہ پیش کرتے ہیں کہ بلاشبہ حروف اور الفاظ مفردہ خدا کی کلام اور انسانوں کی کلام میں مشترک ہیں ۔ سوحروف اور الفاظ مفردہ میں شراکت انسان کی خدا کے ساتھ لازم آئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا متن میں یہ تفصیل مندرج ہے۔ تعلیم زبان کی خدا کی طرف سے ہے ۔ پس حروف اور الفاظ مفردہ بھی خدا ہی نے انسانوں کو سکھلائے ہیں۔ انسان نے ان کو اپنی عقل سے ایجاد نہیں کیا ۔ جس بات کو انسان ایجاد کرتا ہے وہ صرف ترکیب کلمات ہے۔ یعنی فقط یہ امر انسان کا اختیاری اور کسی ہے کہ کسی مضمون کے ظاہر کرنے کے لئے اپنی طرف سے ایک عبارت طیار کر سکتا ہے جس میں کوئی فقرہ کسی جگہ پر اور کوئی فقرہ کسی جگہ پر وضع کرتا ہے ۔ اور کسی ترکیب کو کسی محل پر اور کسی ترکیب کو کسی محل پر رکھتا ہے۔ سو یہی املاء انشاء اس کا اپنی طرف سے ہوتا ہے۔ اور اس میں ہم کہتے ہیں کہ خدا کی املاء انشاء سے انسان کا املاء انشاء ہرگز برابر نہیں ہو سکتا اور نہ برابر ہونا جائز ہے۔ کیونکہ اس سے مشارکت باری کی مخلوق سے لازم آتی ہے۔ لیکن انسان کا وہی حروف اور الفاظ مفردہ بولنا جو خدا نے اپنے کلام میں استعمال کئے ہیں یہ مشارکت نہیں بلکہ یہ تو بعینہ ایسی بات ہے کہ جیسے انسان مٹی کو جو خدا کی پیدائش ہے اپنے استعمال میں لاتا ہے اور طرح طرح کے برتن وغیرہ بناتا ہے۔ پس اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ انسان خدا کا شریک ہو گیا ہے ۔ کیونکہ مٹی تو بلا شبہ خدا کی مخلوق ہے نہ انسان کی مخلوق ۔ شراکت تو تب ثابت ہو کہ جب کوئی انسان خدا کی طرح اس مٹی سے حیوانات اور نباتات اور طرح طرح کے جواہرات بنا کر دکھلاوے۔ سو ظاہر ہے کہ انسان میں یہ مقدور نہیں کہ جو کام خدا نے مٹی سے پورا