براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 151

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۴۹ براہین احمدیہ حصہ سوم شخص کے لئے جو اس زبان سے نا واقف ہے جس زبان میں مضامین ان کتابوں کے لکھے گئے ہیں حکم امور غیبیہ کا رکھتے ہیں۔ یہ تو اس صورت میں ہے کہ جب کوئی قوم اپنی کتب الہامیہ کی نسبت آپ قبول کر لے کہ وہ بار یک صداقتوں سے عاری اور بے نصیب ہیں۔ لیکن اگر کسی قوم کی یہ رائے ہو کہ ان کی الہامی کتابوں میں بار یک صداقتیں بھی ہیں جن پر احاطہ کرنا بجز ان اعلیٰ درجہ کے اہل علم لوگوں کے جن کی عمریں انہیں میں تدبر تفکر کرتے کرتے فرسودہ ہوگئی ہیں اور جن میں ایسی صداقتیں بھی ہیں جن کی تہ اور مغز تک وہی لوگ پہنچتے ہیں جو نہایت درجہ کے زیرک اور عمیق الفکر اور راسخ فی العلم ہیں تو اس جواب سے خود ہمارا مطلب ثابت ہے۔ کیونکہ اگر ایک امی اور نا خواندہ آدمی ان حقائق دقیقہ کو ان کی کتابوں میں سے بیان کرے جن کو با قرار ان کے عوام اہل علم بھی بیان نہیں کر سکتے ۔ صرف خواص کا کام ہے۔ تو بلا شبہ بیان اس اُمی کا بعد ثبوت اس بات کے کہ وہ امی ہے امور غیبیہ میں داخل ہوگا۔ اور یہی تمثیل سیوم کا مطلب ہے۔ تنبیه اُمور غیبیہ کو منجانب اللہ ہونے پر دلالت کامل ہے ۔ کیونکہ یہ بات بہ بداہت عقل ثابت ہے کہ غیب کا دریافت کرنا مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہے۔ اور جو امر مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہو وہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ پس اس دلیل سے ظاہر ہے کہ امور غیبیہ خدا کی طرف سے ظہور پذیر ہوتے ہیں اور ان کا منجانب اللہ ہونا یقینی اور قطعی ہے۔ تمہید سیوم : جو چیز محض قدرت کا ملہ خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر ہو خواہ وہ چیز اس کی مخلوقات میں سے کوئی مخلوق ہو۔ اور خواہ وہ اس کی پاک کتابوں میں سے کوئی (۱۳۶۶) کتاب ہو ۔ جو لفظ اور معناً اسی کی طرف سے صادر ہو ۔ اس کا اس صفت سے متصف ہونا ضروری ہے۔ کہ کوئی مخلوق اس کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو ۔ اور یہ اصول عام جو