براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 143

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۴۱ براہین احمدیہ حصہ سوم اور ان کی بدعات مخلوطہ دور کرنے کے لئے وعظ ہوسکتا ہے۔ اور جن تقریبات سے علماء اسلام کو ترویج دین کے لئے اس گورنمنٹ میں جوش پیدا ہوتے ہیں اور فکر اور نظر سے اعلیٰ درجہ کا کام لینا پڑتا ہے اور عمیق تحقیقاتوں سے تائید دین متین میں تالیفات ہو کر حجت اسلام مخالفین پر پوری کی جاتی ہے وہ میری دانست میں آج کل کسی اور ملک میں ممکن نہیں۔ یہی سلطنت ہے جس کی عادلانہ حمایت سے علماء کو مدتوں کے بعد گویا صد ہا سال کے بعد یہ موقعہ ملا کہ بے دھڑک بدعات کی آلودگیوں سے اور شرک کی خرابیوں سے اور مخلوق پرستی کے فسادوں سے نادان لوگوں کو مطلع کریں اور اپنے رسول مقبول کا صراط مستقیم کھول کر ان کو بتلاویں۔ کیا ایسی سلطنت کی بدخواہی جس کے زیر سایہ تمام مسلمان امن اور آزادی سے بسر کرتے ہیں اور فرائض دین کو کما حقہ بجالاتے ہیں اور ترویج دین میں سب ملکوں سے زیادہ مشغول ہیں جائز ہوسکتی ہے۔ حاشا و کلا ہرگز جائز نہیں۔ اور نہ کوئی نیک اور دیندار آدمی ایسا بد خیال دل میں لاسکتا ہے۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ دنیا میں آج یہی ایک سلطنت ہے جس کے سایہ عاطفت میں بعض بعض اسلامی مقاصد ایسے حاصل ہوتے ہیں کہ جو دوسرے ممالک میں ہرگز ممکن الحصول نہیں۔ شیعوں کے ملک میں جاؤ تو وہ سنت جماعت کے وعظوں سے افروختہ ہوتے ہیں۔ اور سنت جماعت کے ملکوں میں شیعہ اپنی رائے ظاہر کرنے سے خائف ہیں۔ ایسا ہی مقلدین موحدین کے شہروں میں اور موحدین مقلدین کی بلاد میں دم نہیں مار سکتے ۔ اور گوکسی بدعت کو اپنی آنکھ سے دیکھ لیں منہ سے بات نکالنے کا موقعہ نہیں رکھتے ۔ آخر یہی سلطنت ہے جس کی پناہ میں ہر ایک فرقہ امن اور آرام سے اپنی رائے ظاہر کرتا ہے۔ اور یہ بات اہل حق کے لئے نہایت ہی مفید ہے۔ کیونکہ جس ملک میں بات کرنے کی گنجائش ہی نہیں ۔ نصیحت دینے کا حوصلہ ہی نہیں۔ اس ملک میں کیونکر راستی پھیل سکتی ہے۔ راستی پھیلانے کے لئے وہی ملک مناسب ہے جس میں آزادی سے اہل حق وعظ کر سکتے ہیں۔ یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ دینی جہادوں سے اصلی غرض آزادی کا قائم کرنا اور ظلم کا دور کرنا تھا۔ اور دینی جہاد انہیں ملکوں کے مقابلہ پر ہوئے تھے جن میں