براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 142
روحانی خزائن جلد ۱ الده براہین احمدیہ حصہ سوم چھاپا جائے اور پھر دس ہیں نسخہ اسکے گورنمنٹ میں اور باقی نسخہ جات متفرق مواضع پنجاب و هندوستان خاص کر سرحدی ملکوں میں تقسیم کئے جائیں۔ یہ سچ ہے کہ بعض غمخوار مسلمانوں نے ڈاکٹر ہنٹر صاحب کے خیالات کا رد لکھا ہے۔ مگر یہ دو چار مسلمانوں کارڈ جمہوری رڈ کا ہرگز قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ بلاشبہ جمہوری رڈ کا اثر ایسا قوی اور پر زور ہوگا جس سے ڈاکٹر صاحب کی تمام غلط تحریر میں خاک سے مل جائیں گی اور بعض نا واقف مسلمان بھی اپنے بچے اور پاک اصول سے بخوبی مطلع ہو جائیں گے اور گورنمنٹ انگلشیہ پر بھی صاف باطنی مسلمانوں کی اور خیر خوا ہی اس رعیت کی کماحقہ کھل جائے گی اور بعض کو ہستانی جہلا کے خیالات کی اصلاح بھی بذریعہ اسی کتاب کی وعظ اور نصیحت کے ہوتی رہے گی۔ بالآخر یہ بات بھی ظاہر کرنا ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ اگر چہ تمام ہندوستان پر یہ حق واجب ہے کہ بنظر اُن احسانات کے کہ جو سلطنت انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامہ خلائق پر وارد ہیں۔ سلطنت مدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مشکل اور نعماء الہی کے اس کا شکر بھی ادا کریں۔ لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکر گزار ہوں گے اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے نعمت عظمی یقین نہ کریں۔ ان کو سوچنا چاہئیے کہ اس سلطنت سے پہلے وہ کس حالت پر ملالت میں تھے اور پھر کیسے امن و امان میں آگئے ۔ پس فی الحقیقت یہ سلطنت ان کیلئے ایک آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے جسکے آنے سے سب تکلیفیں ان کی دور ہوئیں اور ہر ایک قسم کے ظلم اور تعدی سے نجات حاصل ہوئی اور ہر یک ناجائز روک اور مزاحمت سے آزادی میسر آئی۔ کوئی ایسا مانع نہیں کہ جو ہم کو نیک کام کرنے سے روک سکے یا ہماری آسائش میں خلل ڈال سکے۔ پس حقیقت میں خداوند کریم و رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کیلئے ایک باران رحمت بھیجا ہے جس سے پودہ اسلام کا پھر اس ملک پنجاب میں سرسبز ہوتا جاتا ہے اور جس کے فوائد کا اقرار حقیقت میں خدا کے احسانوں کا اقرار ہے۔ یہی سلطنت ہے جس کی آزادی ایسی بدیہی اور مسلم الثبوت ہے کہ بعض دوسرے ملکوں سے مظلوم مسلمان ہجرت کر کے اس ملک میں آنا بدل و جان پسند کرتے ہیں۔ جس صفائی سے اس سلطنت کے ظل حمایت میں مسلمانوں کی اصلاح کے لئے