براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 67
روحانی خزائن جلد ۱ براہین احمدیہ حصہ دوم بندگان خدا کو ایک چشمہ فیض سے روکنا بڑا عیب ہے۔ مگر یا در ہے جو اس مقولہ سے کسی نوع کی خودستائی ہمارا مطلب نہیں جو تحقیقات ہم نے کی اور پہلے عالی شان فضلاء نے نہ کی یا جو دلائل ہم نے لکھیں اور انہوں نے نہ لکھیں یہ ایک د ایسا امر ہے جو زمانہ کے حالات سے متعلق ہے نہ اس سے ہماری ناچیز حیثیت بڑھتی ہے اور نہ ان کی بلندشان میں کچھ فرق آتا ہے۔ انہوں نے ایسا زمانہ پایا کہ جس میں ابھی خیالات فاسدہ کم پھیلے تھے اور صرف غفلت کے طور پر باپ دادوں کی تقلید کا بازار گرم تھا سوان بزرگوں نے اپنی تالیفات میں وہ روش اختیار کی جو ان کے زمانہ کی اصلاح کے لئے کافی تھی ہم نے ایسا زمانہ پایا کہ جس میں بباعث زور خیالات فاسدہ کے وہ پہلی روش کافی نہ رہی بلکہ ایک پر زور تحقیقات کی حاجت پڑی جو اس وقت کی شدت فساد کی پوری پوری اصلاح کرے۔ یہ بات یا درکھنی چاہیے جو کیوں ازمنہ مختلفہ میں تالیفات جدیدہ کی حاجت پڑتی ہے اس کا باعث یہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا یعنی کسی زمانہ میں مفاسد کم اور کسی میں زیادہ ہو جاتے ہیں اور کسی وقت کسی رنگ میں اور کسی وقت کسی رنگ میں پھیلتے ہیں اب مؤلف کسی کتاب کا جو ان خیالات کو مٹانا چاہتا ہے اس کو ضرور ہوتا ہے جو وہ طبیب حاذق کی طرح مزاج اور طبیعت اور مقدار فساد اور قسم فساد پر نظر کر کے اپنی تد بیر کو على قدر ما ينبغى و على نحو ما ينبغی عمل میں لاوے اور جس قدر یا جس نوع کا بگاڑ ہو گیا ہے اسی طور پر اس کی اصلاح کا بندوبست کرے اور وہی طریق اختیار کرے کہ جس سے احسن اور اسہل طور پر اس مرض کا ازالہ ہوتا ہو کیونکہ اگر کسی تالیف میں مخاطبین کے مناسب حال تدارک نہ کیا جائے تو وہ تالیف نہایت نکمی اور غیر مفید اور بے سود ہوتی ہے اور ایسی تالیف کے بیانات میں یہ زور ہر گز نہیں ہوتا جو منکر کی طبیعت کے پورے گہراؤ تک غوطہ لگا کر اس کے دلی خلجان کو بکلی مستاصل کرے۔ پس ہمارے معترضین اگر ذرا غور کر کے سوچیں گے تو ان پر