براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 66

روحانی خزائن جلد ۱ ۶۴ براہین احمدیہ حصہ دوم اور جو زیر باریاں بوجہ کی قیمت کتاب و کثرت مصارف طبع کے عائد حال ہیں ان کے جبر نقصان کے لئے کچھ لِلہ فی اللہ ہمت دکھلاتے منافقانہ باتیں کرنے سے ہمارے کام میں خلل انداز ہورہے ہیں اور لوگوں کو یہ وعظ سناتے ہیں جو کیا پہلی کتا بیں کچھ تھوڑی ہیں جواب اس کی حاجت ہے اگر چہ ہم کو ان لوگوں کے اعتراضوں پر کچھ نظر اور خیال نہیں اور ہم جانتے ہیں جو دنیا پرستوں کی ہر ایک بات میں کوئی خاص غرض ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ اسی طرح شرعی فرائض کو اپنے سر پر سے ٹالتے رہتے ہیں کہ تا کسی دینی کا رروائی کی ضرورت کو تسلیم کر کے کوئی کوڑی ہاتھ سے نہ چھوڑنی پڑے لیکن چونکہ وہ ہماری اس جہد بلیغ کی تحقیر کر کے لوگوں کو اس کے فوائد عظیمہ سے محروم رکھنا چاہتے ہیں اور باوصفیکہ ہم نے پہلے حصہ کے پرچہ منضمہ میں وجوہ ضرورت کتاب موصوف کی بیان کر دی تھیں پھر بھی بمقتضائے فطرتی خاصیت اپنی کے نیش زنی کر رہے ہیں۔ ناچار اس اندیشہ سے کہ مبادا کوئی شخص ان کی واہیات باتوں سے دھوکا نہ کھاوے پھر کھول کر بیان کیا جاتا ہے کہ کتاب براہین احمدیہ بغیر اشد ضرورت کے نہیں لکھی گئی ۔ جس مقصد اور مطلب کے انجام دینے کے لئے ہم نے اس کتاب کو تالیف کیا ہے اگر وہ مقصد کسی پہلی کتاب سے حاصل ہو سکتا تو ہم اسی کتاب کو کافی سمجھتے اور اسی کی اشاعت کے لئے بدل و جان مصروف ہو جاتے اور کچھ ضرور نہ تھا جو ہم سالہا سال اپنی جان کو محنت شدید میں ڈال کر اور اپنی عمر عزیز کا ایک حصہ خرچ کر کے پھر آخر کار ایسا کام کرتے جو محض تحصیل حاصل تھا لیکن جہاں تک ہم نے نظر کی ہم کو کوئی کتاب ایسی نہ علی جو جامع ان تمام دلائل اور براہین کی ہوتی کہ جن کو ہم نے اس کتاب میں جمع کیا ہے اور جن کا شائع کرنا بغرض اثبات حقیت دین اسلام کے اس زمانہ میں نہایت ضروری ہے تو نا چا ر واجب دیکھ کر ہم نے یہ تالیف کی اگر کسی کو ہمارے اس بیان میں شبہ ہو تو ایسی کتاب کہیں سے نکال کر ہم کو دکھا دے تا ہم بھی جائیں ورنہ بیہودہ بکواس کرنا اور ناحق