ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 403 of 550

ایّام الصّلح — Page 403

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۰۳ امام الصلح اور مسیح موعود کی طرف یہ برکات حدیثوں میں اس لئے منسوب کی گئیں کہ یہ ہمیشہ سے عادۃ اللہ ہے کہ جس مرد خاص کو خدا تعالیٰ دنیا میں برکات ظاہر کرنے کے لئے بھیجتا ہے اس کے زمانہ میں جو کچھ برکات ظاہر ہوتی ہیں خواہ اس کے ہاتھ سے ظہور میں آویں خواہ کسی اور کے ہاتھ سے ظہور میں آئیں سب اُسی کی طرف منسوب کی جاتی ہیں کیونکہ اس کے متبرک وجود کی وجہ سے خدا کے فضل ہر ایک طور سے زمین پر وارد ہوتے ہیں لہذا وہ تمام برکات اس کے لئے ہوتی ہیں اگر چہ دنیا اس کو اوائل حال میں نہیں پہچانتی مگر آخر پہچان لیتی ہے۔ میں نے بار بار کہا اور اب بھی کہتا ہوں کہ انسانوں کی عافیت اور برکت کے لئے میری دعاؤں اور میری توجہ اور میرے وجود کو اور تمام انسانوں کی نسبت زیادہ دخل ہے کوئی نہیں جو ان امور میں میرا مقابلہ کر سکے اور اگر کرے تو خدا اس کو ذلیل کرے گا۔ میری نسبت ہی خدا نے فرمایا (۱۵۶) مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِيهِمْ یعنی خدا ایسا نہیں کہ اس قوم اور اس سلطنت پر عذاب نازل کرے جس میں تو ہے اور فرمایا ان الله لا يُغَيِّرُ مَا بِقَومٍ حَتَّى يُغَيرُوْا مَا بِأَنْفُسِهِمْ إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ اس الہام میں گو ہنوز اجمال ہے مگر جیسا کہ ظاہر الفاظ سے سمجھا جاتا ہے یہی معنے ہیں کہ جس گاؤں میں تو ہے خدا اُسے طاعون سے یا اُس کی آفات لاحقہ سے بچائے گا۔ بہر حال یہ وہی دنیوی برکات ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کو دی گئی تھیں۔ یعنی اُن میں بڑا کمال یہی تھا کہ اُن کی ہمت اور توجہ اور دعا مخلوق کی عافیت عامہ کے لئے مؤثر تھی ۔ سو یہی صفات اس عاجز کو بخشی گئیں۔ چنانچہ براہین میں بھی یہ الہام ہے کہ امراض الناس و برکاته اور ایک یہ بھی الہام ہے یا مسیح الخلق عدوانا یعنی اے مسیح جو خلقت کی بھلائی کے لئے بھیجا گیا ہمارے طاعون کے دفع کے لئے مدد کر ۔ سویا درکھو کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ لوگ ان برکات کو بکثرت دیکھیں گے۔ اب یہ زمانہ جس میں ہم ہیں ایسا زمانہ ہے کہ دو قسم کے برکات اس میں ترقی کرتے جاتے ہیں اور اس درجہ پر ہیں کہ اگر ان برکات کی نظیر گزشتہ زمانوں میں تلاش کی جائے تو ہرگز