ایّام الصّلح — Page 392
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۹۲ اتمام الصلح سیاحت کی تھی آپ لوگ اس قدر اپنے علم کی پردہ دری کیوں کراتے ہیں اگر تقویٰ ہے تو ۱۴۶) کیوں حق کو قبول نہیں کرتے ۔ آپ لوگوں کے پاس بجز ایک لفظ نزول کے ہے کیا۔ لیکن اگر اس جگہ نزول کے لفظ سے یہ مقصود تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے دوبارہ آئیں گے تو بجائے نزول کے رجوع کہنا چاہیے تھا کیونکہ جو شخص وا پس آتا ہے اُس کو زبانِ عرب میں راجع کہا جاتا ہے نہ نازل ۔ ماسوا اس کے جبکہ قرآن میں نزول کا لفظ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بھی آیا ہے اور صحیح مسلم میں دجال کے حق میں بھی آیا ہے اور عام بول چال اس لفظ کا مسافروں کے حق میں ہے اور نزیل اس مسافر کو کہتے ہیں کہ جو کسی مقام میں فروکش ہو تو پھر خواہ نخواہ نزول سے آسمان سے نازل ہونا سمجھ لینا کس قدر نا سمجھی ہے۔ پھر میں اصل کلام کی طرف عود کر کے کہتا ہوں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیاء ہونا بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی موت کو ہی چاہتا ہے کیونکہ آپ کے بعد اگر کوئی دوسرا نبی آ جائے تو آپ خاتم الانبیاء نہیں ٹھہر سکتے اور نہ سلسلہ وحی نبوت کا منقطع متصور ہو سکتا ہے ۔ اور اگر فرض بھی کر لیں کہ حضرت عیسی اُمتی ہو کر آئیں گے تو شان نبوت تو اُن سے منقطع نہیں ہوگی گو امتیوں کی طرح وہ شریعت اسلام کی پابندی بھی کریں مگر یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس وقت وہ خدا تعالیٰ کے علم میں نبی نہیں ہوں گے اور اگر خدا تعالیٰ کے علم میں وہ نبی ہوں گے تو وہی اعتراض لازم آیا کہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک نبی دنیا میں آگیا اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا استخفاف اور نص صریح قرآن کی تکذیب لازم آتی ہے۔ قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر ہیں چونکہ حدیثوں میں آنے والے مسیح موعود کو اُمتی لکھا ہے کیونکہ در حقیقت وہ اُمتی ہے اس لئے نادان علماء کو دھوکا لگا اور انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو امتی ٹھہرا دیا حالانکہ ہمارے دعوے پر یہ ایک نشان تھا کہ مسیح موعود امت میں سے ہوگا۔ منہ