ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 381 of 550

ایّام الصّلح — Page 381

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۸۱ اتمام اصلح مگر یادر ہے کہ کسی فرقہ متقدمین یا متاخرین نے یہ نہیں لکھا کہ مسیح کو اسی جہان میں خدا تعالیٰ نے چھپایا ہے۔ ہاں مسلمان صوفیوں کے ایک گروہ کا یہ مذہب ہے کہ مسیح کا آسمان سے فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہونا باطل ہے کیونکہ یہ صورت ایمان بالغیب کے مخالف ہے اور قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ جب فرشتے زمین پر اترتے نظر آئیں گے تو اُس وقت دنیا کا خاتمہ ہو گا اور اس وقت کا ایمان منظور نہ ہوگا ۔ اور فرماتا ہے کہ فرشتوں کو زمین پر اتر تے دنیا کے لوگ ہرگز دیکھ نہیں سکتے ۔ اور جب دیکھیں گے تو اس وقت یہ دنیا نہیں ہوگی۔سو جب کہ قرآن شریف کے نصوص صریحہ اور آیات قطعية الدلالت سے یا مرثابت ہو گیا کہ فرشتوں کا نزول اُس وقت ہوگا کہ جب کہ ایمان لانا بے فائدہ ہوگا جیسا کہ جان کندن کے وقت جب فرشتے نظر آتے ہیں تو وہ وقت ایمان لانے کا وقت نہیں ہوتا تو اس صورت میں یا تو یہ عقیدہ رکھنا چاہیئے کہ مسیح کے نزول کے بعد ایمان نفع نہیں دے گا مگر یہ عقیدہ تو صریح باطل ہے کیونکہ اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ململ باطلہ ہلاک ہو جائیں گی اور راستبازی ترقی کرے گی ۔ پس جب کہ یہ عقیدہ رکھنا درست نہ ہوا تو بالضرورت برعایت نصوص صریحہ قرآن شریف کے اس دوسرے پہلو کو ماننا پڑا کہ فرشتوں کا اور اُن کے ساتھ مسیح کا نازل ہونا ظاہر طور پر محمول نہیں ہے بلکہ بوجہ قرینہ ہینہ نص صریح قرآن کے اس نزول کے تاویلی طور پر معنے ہوں گے کیونکہ جسمانی طور پر حضرت عیسی کا آسمان سے فرشتوں کے ساتھ نازل ہونا نص صریح قرآن سے مخالف اور معارض پڑا ہے۔ یہی مشکل تھی جوا کا بر اسلام کو پیش آئی اور اسی مشکل کی وجہ سے امام مالک رضی اللہ عنہ نے کھلے کھلے طور پر بیان کر دیا کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں اور اسی وجہ سے امام ابن حزم بھی اُن کی فوت کے قائل (۱۳۷) ہوئے اور اسی وجہ سے تمام اکابر علماء معتزلہ کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی وفات پاچکے ۔ غرض آسمان سے نازل ہونے کا بطلان نہ صرف آیت قُل سُبْحَانَ رَبِّى سے ثابت ہوتا ہے ا بنی اسرائیل