ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 550

ایّام الصّلح — Page 281

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۸۱ اتمام اصلح دیکھنے کے لئے یورپ اور امریکہ سے لوگ آئے۔ کیا یہ امور غیبیہ انسان کی طاقت میں ہیں؟ ایک یہ بھی پیشگوئی تھی کہ اُن دنوں میں ذو السنین ستارہ بھی نکلے گا جو مسیح کے وقت اور اُس سے پہلے نوح کے وقت میں نکلا تھا۔ اب سب کو معلوم ہے کہ وہ ستارہ نکل آیا۔ اور انگریزی اور اردو اخباروں میں اُس کا نکلنا شائع کیا گیا۔ اور حدیثوں میں جاوا کی آگ کی نسبت بھی خبر دی گئی تھی کہ مسیح موعود کے زمانہ میں نکلے گی۔ اب سب کو معلوم ہے کہ وہ آگ بھی نکل آئی اور کسی واقف کار کو اس سے انکار نہیں۔ اور حدیثوں میں عدن میں طاعون پیدا ہونے کا بھی اشارہ کیا گیا ہے چنانچہ یہ سب باتیں اب پوری ہو گئیں۔ پھر ایسی حدیثیں جن میں اس قدر امور غیبیہ بھرے پڑے ہیں جو اپنے وقت پر پورے ہو گئے کیونکر جھوٹی ٹھہر سکتی ہیں؟ یہ ہم قبول کرتے ہیں کہ ان حدیثوں کے درمیانی زمانہ کے بعض علماء نے غلط معنے کئے ہیں اور اُن کی غلط فہمیوں کا عوام پر بہت ہی بُرا اثر ہوا۔ اور جو لوگ معقول پسند تھے مثلاً معتزلہ وہ ایسے غیر معقول معنے سن کر سرے سے حدیثوں کی صحت سے ہی انکاری ہو گئے۔ لیکن اس انکار سے جو کسی تاریخی جرح پر مبنی نہ تھا بلکہ محض اس خیال پر مبنی تھا کہ مضمون غیر معقول ہے حدیثوں کی صحت میں فرق نہیں آسکتا بلکہ باوجود انکار کے پھر بھی اس قسم کی حدیثیں اس درجہ تو اتر پر تھیں کہ وہ لوگ بھی تواتر کو رد نہ کر سکے اور سراسیمہ رہ گئے ۔اگر اسی زمانہ میں ان حدیثوں کے وہ معنے کئے جاتے جو اب کئے جاتے ہیں تو اسلام کا ایک بھی فرقہ اُن سے منکر نہ ہوتا۔ لیکن افسوس کہ ہر ایک استعارہ کو حقیقت پر حمل کر کے اور ہر ایک مجاز کو واقفیت کا پیرا یہ پہنا کران حدیثوں کو ایسے دشوار گزار راہ کی طرح بنایا گیا جس پر کسی محقق معقول پسند کا قدم ٹھہر نہ سکے۔سو حدیثوں پر کوئی الزام نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کا قصور فہم ہے جنہوں نے ایسے معنے کئے اور عوام کو افسوس ناک غلطیوں میں مبتلا کیا اور بعض حال کے زمانہ کے معقول پسند بھی جو ان حدیثوں کی صحت سے انکار کرتے ہیں ان کے ہاتھ میں بجز اس کے کوئی وجہ انکار نہیں کہ وہ ان معنوں کو جو اس زمانہ کے علماء کرتے ہیں معقولیت اور سنت اللہ اور قانون قدرت سے خارج پاتے ہیں۔ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ۔' واقعیت “ہونا چاہیے۔(ناشر)