ایّام الصّلح — Page 270
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۷۰ اتمام الصلح حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دے رہی ہے۔ قول ابن عباس رضی اللہ عنہ گواہی دے رہا ہے۔ اور ائمہ اسلام گواہی دے رہے ہیں اور ان سب کے بعد عقل بھی گواہی دیتی ہے۔ اور ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کا قصہ یہی گواہی دے رہا ہے جس کی تاویل خود حضرت مسیح کے منہ سے یہ ثابت ہوئی کہ ایلیا سے مراد يوحنا یعنی یحیی ہے اور اس تاویل نے یہود کے اس اجماعی عقیدہ کو خاک میں ملا دیا کہ در حقیقت ایلیا نبی جو دنیا سے گذر گیا تھا پھر دنیا میں آئے گا۔ حق کے طالب اس مقام میں خوب سوچیں کہ نصوص قرآنیہ سے نصوص حدیثیہ سے پہلی کتابوں کی شہادت سے ائمہ کی گواہی سے دلائل عقلیہ سے یہی مذہب سچا ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور اب ان کے دوبارہ آنے کی اُمید اسی قسم کی اُمید ہے جس امید کے سہارے پر یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت سے انکار کیا۔ ہم ثالثوں کے آگے یہ مقدمہ پیش کرتے ہیں وہ جواب دیں کہ اب اس فیصلہ میں کون سی کسر باقی رہ گئی ہے۔ تمام قرآن یہ گواہی دے رہا ہے کہ توفی کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی انسان کی روح کو اپنے قبضہ میں لے لے نہ ۲۰ یہ کہ جسم کو اپنے قبضہ میں لے لے۔ ہاں رُوح کو اپنے قبضہ میں لے لینا د وطور سے ہو سکتا ہے ایک یہ کہ خواب کی حالت میں رُوح کو اپنے قبضہ میں لے اور پھر اس کو بدن میں واپس بھیج دے۔ اور یا یہ کہ موت کی حالت میں روح کو اپنے قبضہ میں لے اور پھر اُس کو بدن میں واپس نہ بھیجے ۔ یہی دو صورتیں ہیں جو قرآن شریف میں بیان فرمائی گئی ہیں مگر جسم کو قبضہ میں لینا کہیں بیان نہیں فرمایا گیا اور نہ کسی لغت والے نے لکھا کہ توفی کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی جسم کو اپنے قبضہ میں لے لے بلکہ بالا تفاق تمام اہل لغت یہی کہتے ہیں کہ جب یہ مثلاً کہا جائے کہ تَوَفَّى اللهُ زَيْدًا تو اس کے یہی معنے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے زید کی روح کو قبض کر لیا۔ ہاں محاورہ قرآنی میں یہ دونوں باتیں آگئی ہیں کہ خواہ اللہ تعالیٰ کسی کے جسم کو نیند کی حالت میں اس کے بستر پر چھوڑ کر رُوح کو قبض کرلے اور پھر واپس جسم میں لاوے اور خواہ موت کی حالت میں ہمیشہ کے لئے قبض کرے اور حشر تک واپس نہ لاوے ۔ مگر قبض کا فعل ہمیشہ رُوح سے تعلق رکھے گا نہ کہ جسم سے ۔ ہمارے مخالف علماء یہ بھی غلطی کرتے ہیں کہ توفی کے معنے نیند بھی لیتے ہیں ۔ خدا ان کی حالت پر رحم کرے۔