آسمانی فیصلہ — Page 365
روحانی خزائن جلد۴ ۳۶۵ منصفین کے غور کے لائق آسمانی فیصلہ یہ بات بالکل سچ ہے کہ جب دل کی آنکھیں بند ہوتی ہیں تو جسمانی آنکھیں بلکہ سارے حواس ساتھ ہی بند ہو جاتے ہیں پھر انسان دیکھتا ہوا نہیں دیکھتا اور سنتا ہوا نہیں سنتا اور سمجھتا ہوا نہیں سمجھتا اور زبان پر حق جاری نہیں ہو سکتا ۔ دیکھو ہمارے محجوب مولوی کیسے دانا کہلا کر تعصب کی وجہ سے نادانی میں ڈوب گئے دینی دشمنوں کی طرح آخر افتراؤں پر آگئے۔ ایک صاحب اس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ ایک اپنے لڑکے کی نسبت الہام سے خبر دی تھی کہ یہ باکمال ہو گا حالانکہ وہ صرف چند مہینہ جی کر مر گیا۔ مجھے تعجب ہے کہ ان جلد بازمولویوں کو ایسی باتوں کے کہنے کے وقت کیوں لعنت اللہ علی الکاذبین لا کی آیت یاد نہیں رہتی اور کیوں یکدفعہ اپنے باطنی جذام اور عداوت اسلام کو دکھلانے لگے ہیں اگر کچھ حیا ہو تو اب اس بات کا ثبوت دیں کہ اس عاجز کے کسی الہام میں لکھا گیا ہے کہ وہی لڑکا جو فوت ہو گیا در حقیقت وہی موعود لڑکا ہے الہام الہی میں صرف اجمالی طور پر خبر ہے کہ ایسا لڑکا پیدا ہوگا اور خدا تعالیٰ کے پاک الہام نے کسی کو اشارہ کر کے مورد اس پیشگوئی کا نہیں ٹھہرایا بلکہ اشتہار فروری ۱۸۸۶ء میں یہ پیشنگوئی موجود ہے کہ بعض لڑکے صغرسن میں فوت بھی ہوں گے پھر اس بچے کے فوت ہونے سے ایک پیشگوئی پوری ہوئی یا کوئی پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ اب فرض کے طور پر کہتا ہوں کہ اگر ہم اپنے اجتہاد سے کسی اپنے بچہ پر یہ خیال بھی کر لیں کہ شاید یہ وہی پسر موعود ہے اور ہمارا اجتہاد خطا جائے تو اس میں الہام الہی کا کیا قصور ہوگا کیا نبیوں کے اجتہادات میں اس کا کوئی نمونہ نہیں ! اگر ہم نے وفات یافتہ لڑکے کی نسبت کوئی قطعی الدلالت الہام کسی اپنی کتاب میں لکھا ہے تو وہ پیش کریں جھوٹ بولنا اور نجاست کھانا ایک برابر ہے تعجب کہ ان لوگوں کو نجاست خوری کا کیوں شوق ہو گیا آج تک صد با الہامی پیشگوئیاں سچائی سے ظہور میں آئیں جو ایک دنیا میں مشہور کی گئیں نگران مولویوں نے ہمدردی اسلام کی راہ سے کسی ایک کا بھی ذکر نہ کیا۔ دلیپ سنگھ کا ارادہ سیر ہندوستان و پنجاب سے ناکام رہنا صد ہالوگوں کو پیش از وقوع سنایا گیا تھا۔ بعض ہندوؤں کو پنڈت دیا نند کی موت کی خبر چند مہینے اسکے مرنے سے پہلے بتلائی گئی تھی اور یہ لڑکا بشیر الدین محمود جو پہلے لڑکے کے بعد پیدا ہوا ایک اشتہار میں اسکی پیدائش کی قبل از تولد خبر دی گئی تھی سردار محمد حیات خان کی معطلی کے زمانہ میں ان کی دوبارہ بحالی کی لوگوں کو خبر سنادی گئی تھی۔ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور پر مصیبت کا آنا پیش از وقت ظاہر کیا گیا تھا اور پھر انکی ہر رکت ل ال عمران : ۶۲