آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 359

روحانی خزائن جلد۴ ۳۵۹ خلق و عالم جمله در شور و شراند طالبانت آسمانی فیصلہ ور مقام دیگر اند آن یکے را نور می بخشی بدل واں دگر را می گزاری پابگل چشم و گوش و دل ز تو گیرد ضیاء ذات تو سرچشمہ فیض و ہدا غرض خداوند قادر وقد وس میری پناہ ہے اور میں تمام کام اپنا اسی کو سونپتا ہوں اور گالیوں کے عوض میں گالیاں دینا نہیں چاہتا اور نہ کچھ کہنا چاہتا ہوں ایک ہی ہے جو کہے گا افسوس کہ ان لوگوں نے تھوڑی سی بات کو بہت دور ڈال دیا اور خدائے تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہ سمجھا کہ جو چاہے کرے اور جسکو چاہے مامور کر کے بھیجے کیا انسان اس سے لڑ سکتا ہے یا آدم زاد کو اس پر اعتراض کرنے کا حق پہنچتا ہے کہ تو نے ایسا کیوں کیا ایسا کیوں نہیں کیا۔ کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ایک کی قوت اور طبع دوسرے کو عطا کرے اور ایک کا رنگ اور کیفیت دوسرے میں رکھ دیوے اور ایک کے اسم سے دوسرے کو موسوم کر دیوے اگر انسان کو خدائے تعالی کی وسیع قدرت پر ایمان ہو تو وہ بلا تامل ان باتوں کا یہی جواب دے گا کہ ہاں بلا شبہ اللہ جل شانہ ہر ایک بات پر قادر ہے اور اپنی باتوں اور اپنی پیشگوئیوں کو جس طرز اور طریق اور جس پیرا یہ سے چاہے پورا کر سکتا ہے ناظرین تم آپ ہی سوچ کر دیکھو کہ کیا آنیوالے عیسی کی نسبت کسی جگہ یہ بھی لکھا تھا کہ وہ دراصل وہی بنی اسرائیلی ناصری صاحب انجیل ہوگا بلکہ بخاری میں جو بعد کتاب اللہ اصح الکتاب کہلاتی ہے بجائے ان باتوں کے امامکم منکم لکھا ہے اور حضرت مسیح کی وفات کی شہادت دی ہے جسکی آنکھیں ہیں دیکھے۔ منصفو! سونچ کر جواب دو کہ کیا قرآن کریم میں کہیں یہ بھی لکھا ہے کہ کسی وقت کوئی حقیقی طور پر صلیوں کو توڑنے والا اور ذمیوں کو قتل کر نیوال اور قتل خنزیر کا نیا حکم لانے والا اور قرآن کریم کے بعض احکام کو منسوخ کر نیوالا ظہور کرے گا اور آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ اور آیت حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ نے اس وقت منسوخ ہو جائے گی اور نئی وحی قرآنی وحی پر خط نسخ کھینچ دے گی ۔ اے لوگو اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والود دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اُس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔ اور بالآخر میں ناظرین کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ جن باتوں پر حضرت مولوی نذیر حسین صاحب اور ان کی جماعت نے تکفیر کا فتویٰ دیا ہے اور میرا نام کا فر اور دجال رکھا ہے اور وہ گالیاں دی ہیں کہ کوئی مہذب آدمی غیر قوم کے آدمی کی نسبت بھی پسند نہیں کرتا اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ گویا یہ باتیں میری کتاب توضیح مرام اور ازالہ اوہام میں درج ہیں۔ میں انشاء اللہ القدير عنقریب ایک مستقل رسالہ المائدة : ۲۴ التوبة : ۲۹