آسمانی فیصلہ — Page 358
۳۵۸ آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد۴ غلبہ تمہیں کا ہے اگر تم واقعی طور پر مومن ہو اور فرماتا ہے لَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلا لے یعنی خدائے تعالیٰ ہرگز کافروں کو مومنوں پر راہ نہیں دے گا۔ سو دیکھو خدائے تعالی نے قرآن کریم میں مقابلہ کے وقت مومنوں کو فتح کی بشارت دے رکھی ہے اور خود ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ مومن کا ہی حامی اور ناصر ہوتا ہے مفتری کا ہرگز ناصر اور حامی نہیں ہوسکتا۔سوجس کا خدائے تعالیٰ آپ دشمن ہو اور جانتا ہے کہ وہ مفتری ہے ایسا نا اہل آدمی کیونکر مومن کے مقابل پر ایمان کے علامات خاصہ سے خلعت یاب ہو سکتا ہے بھلا یہ کیونکر ہو کہ جو لوگ خدائے تعالی کے پیارے دوست اور بچے الہامات کے وارث اور نیز مومنین کاملین اور شیخ الکل ہوں وہ تو مقابلہ کے وقت ایمانی نشانوں سے محروم رہ جائیں اور بڑی ذلت کے ساتھ ان کی پردہ دری ہو اور عمداً خدائے تعالیٰ ان کی بزرگی اور نیک نامی کو صدمہ پہنچاوے لیکن وہ جو راندہ درگاہ النبی اور بقول شیخ بٹالوی کتوں کی طرح اور کافر اور د قبال اور بقول میاں نذیر حسین بکلی ایمان سے بے نصیب اور محمد اور ہر ایک مخلوق سے بدتر ہو اس میں ایمانی نشان پائے جائیں اور خدائے تعالی عند المقابلہ اسی کو فتح مند اور کامیاب کرے ایسا ہونا تو ہر گز ممکن نہیں۔ ناظرین آپ لوگ ایما نا فرمادیں کہ کیا آسمانی اور روحانی تائید مومنوں کیلئے ہوتی ہے یا کافروں کیلئے ؟ اس تمام تقریر میں میں نے ثابت کر دیا ہے کہ حق اور باطل میں کھلا کھلا فرق ظاہر کرنے کیلئے مقابلہ کی از حد ضرورت ہے ۔ تا سیہ روئے خود ہر کہ درونش باشد ۔ میں نے حضرت شیخ الکل صاحب اور اُن کے شاگردوں کی زبان درازیوں پر بہت صبر کیا اور ستایا گیا اور آپ کو روکتا رہا۔ اب میں مامور ہونے کی وجہ سے اس دعوت اللہ کی طرف شیخ الکل صاحب اور ان کی جماعت کو بلاتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ اس نزاع کا آپ فیصلہ کر دے گا وہ دلوں کے خیالات کو جانچتا اور سینوں کے حالات کو پرکھتا ہے اور کسی سے دل آزار زیادتی اور جہر بالتو ء پسند نہیں کرتا وہ لا پروا ہے متقی وہی ہے جو اس سے ڈرے اور میری اس میں کیا کسرشان ہے اگر کوئی مجھے کہتا کہے یا کافر کافر اور وجبال کر کے پکارے در حقیقت حقیقی طور پر انسان کی کیا عزت ہے صرف اس کے نور کے پر توہ پڑنے سے عزت حاصل ہوتی ہے اگر وہ مجھ پر راضی نہیں اور میں اس کی نگاہ میں بُرا ہوں تو پھر کتے کی طرح کیا ہزار درجہ کتوں سے بدتر ہوں۔ گر خدا از بنده خوشنود نیست بیچ حیوانے چو او مردود نیست گرسگ نفس دنی را پروریم اے خدا اے طالبان را رہنما بر رضائے خویش کن انجام ما از سگانِ کوچه با ہم کم تریم ایکہ مہر تا براید در تو حیات روح ما رو عالم کام ما ا النساء : ۱۴۲