آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 550

آریہ دھرم — Page 51

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۵۱ آریہ دھرم کھڑے ہو کر دعوی کیا کہ وید کی رو سے زندہ خاوند والی کا نیوگ جائز ہے۔ لیکن ان بھلے مانسوں نے قرآن کی تعلیم پر کیوں افتراء کیا اب ہمیں دکھلاویں کہ قرآن کریم میں یا کسی حدیث میں کہاں ہے کہ جو اپنی عورت کو ماں کہہ بیٹھے پھر وہ عورت تب اُس کے گھر میں آباد ہوسکتی ہے جبکہ دوسرے کے نکاح میں آجاوے اور تین مہینے اُس کے گھر میں آبادر ہے اور اگر دکھلا نہ سکیں تو بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنت الله على الكاذبين جس کی تعلیم یہ خیانت ہے ایسے دیں پر ہزار لعنت ہے ج اب ہم ان نادانوں پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن میں کونسی ہدایتیں ہیں جن کی پابندی کے بعد پھر ایک شخص طلاق دینے کا مجاز ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں۔ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا - وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا یعنی جن عورتوں کی طرف سے ناموافقت کے آثار ظاہر ہو جائیں پس تم اُن کو نصیحت کرو اور خواب گاہوں میں اُن سے جدا ر ہو اور مارو ( یعنی جیسی جیسی صورت اور مصلحت پیش آوے) پس اگر وہ تمہاری تابعدار ہو جائیں تو تم بھی طلاق وغیرہ کا نام نہ لو اور تکبر نہ کرو کہ کبریائی خدا کے لئے مسلم ہے یعنی دل میں یہ نہ کہو کہ اس کی مجھے کیا حاجت ہے میں دوسری بیوی کر سکتا ہوں بلکہ تواضع سے پیش آؤ کہ تواضع خدا کو پیاری ہے اور پھر فرماتا ہے کہ اگر میاں بیوی کی مخالفت کا اندیشہ ہو تو ایک منصف خاوند کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف بیوی کی طرف سے اگر منصف صلح کرانے کے لئے کوشش کریں گے تو خدا توفیق دے دے گا۔ اور پھر فرمایا۔ لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ وَإِن ل النساء : ۳۶،۳۵