آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 550

آریہ دھرم — Page 50

روحانی خزائن جلد ۱۰ اللہ جلّ شانہ فرماتا ہے آریہ دھرم الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِّسَائِهِمْ مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدِنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنَكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا ۖ وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُو غَفُورٌ - وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسًا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ - فَمَنْ لَّمْ يَجِدُ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَمَا شَا فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ ستين مسكيناط (الجز نمبر ۲۸ سورة المجادلہ ) یعنی جو شخص اپنی عورت کو ماں کہ بیٹھے تو وہ حقیقت میں اس کی ماں نہیں ہوسکتی اُنکی مائیں وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہوئے سو یہ اُن کی بات نا معقول اور سراسر جھوٹ ہے اور خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے اور جو لوگ ماں کہہ بیٹھیں اور پھر رجوع کریں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے ایک گردن آزاد کر دیں یہی خدائے خبیر کی طرف سے نصیحت ہے اور اگر گردن آزاد نہ کر سکیں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے دو مہینہ کے روزے رکھیں اور اگر روزے نہ رکھ سکیں تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیں اب فرمائیے کہ جھوٹے بدذات کو کیا سزادی جاوے جس نے ناحق افترا کر کے اپنی طرف سے یہ بات بنائی کہ ماں کہنے کی حالت میں ایسی طلاق ہو جاتی ہے کہ پھر جب تک عورت دوسرا خصم نہ کرلے خاوند کی طرف رجوع نہیں کر سکتی ایسے دروغ گوؤں کو اگر ایک مرتبہ بھی سزا ہو جائے تو پھر آئندہ جھوٹ بنانے پر جرات نہ کریں دیکھو کیسی بے حیائی اور افترا پردازی ہے کہ نیوگ کی بات پر غصہ کر کے قرآن پر افترا باندھا۔ یہ غصہ وید پر کرنا چاہئے تھا جس نے ہندوؤں کی عزت کو خاک میں ملا دیا ایسا کہ وہ منہ دکھانے کے لائق بھی نہ رہے پھر یہ غصہ منو پر کرنا چاہئے تھا جس نے وید کی ان شرتیوں کو شائع کیا پھر یا گولک وید کا بھاشیکار اس غصہ کے لائق تھا جس نے یہ تفسیر لکھ کر سارے آریہ ورت میں شائع کی پھر پورانوں پر یہ غصہ چاہئے تھا جنہوں نے گھر گھر یہ خوشخبری سنائی اور پھر دیا نند کو کچھ سزا دینی چاہئے تھی جس نے اس زمانہ میں وید کا پردہ فاش کیا۔ پھر گوردت بھی کسی قدر مار کھانے کے لائق تھا جس نے نیوگ کے جواز پر انگریزی رسالے لکھے اور میدان میں ل المجادلة: ۳تا۵