آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 550

آریہ دھرم — Page 29

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۹ آریہ دھرم شریف آدمی بھی ہیں جو عزت اور غیرت اور خیار رکھتے ہیں اس لئے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس رسالہ سے بہت نفع اٹھا ئیں گے بلکہ ایسے تمام لوگ جو اس مسئلہ کی تہ تک پہنچے ہوئے ہیں وہ ہرگز ان نادانوں سے اتفاق نہیں کریں گے جو ایک مشہور عقیدہ کو چھپانا چاہتے ہیں اکثر شریف آریہ ہرگز نہیں چاہتے کہ اس مسئلہ کا ذکر بھی کیا جائے کیونکہ اُن کی انسانی حمیت اور غیرت کسی طرح اس قابل شرم عقیدہ کو قبول نہیں کر سکتی بھلا کون اس دیوٹی کو پسند کرے کہ زندہ اور جیتا جاگتا ہو کر اپنی نیک چلن عورت کو جو عین نکاح کے قید میں ہے اپنے ہاتھ سے دوسرے سے ہم بستر کرا دے اور (۲۵) آپ باہر کسی چٹائی پر لیٹا ر ہے یہی تو بات ہے کہ قادیان کے غیرت مند آریہ وید کی اس ہدایت کو نہیں مانتے ہاں یہ اُن کی نادانی ہے کہ جب اُن کے وید کی اس تعلیم کو جو نیوگ ہے قابل اعتراض ٹھہرایا جائے تو وہ طیش میں آکر مسلمانوں کو طلاق کے مسئلہ سے الزام دینا چاہتے ہیں حالانکہ ایک مسلمان ہرگز اس طعنہ سے شرمندہ نہیں ہو گا کہ اُس نے ایک نابکار عورت کو اس کی کسی بد عملی اور بدچلنی اور نا پارسائی کی وجہ سے طلاق دے دی ہے اور اس مطلقہ نا پاک سیرت کو کوئی اور شخص نکاح میں لایا ہے بلکہ خوش ہوگا کہ اُس نے ایک سڑے ہوئے اور متعفن عضو کو اپنے صحیح سالم وجود میں سے کاٹ کر الگ پھینک دیا اور اس کی زہرناک ہمسائیگی سے نجات پائی اگر کسی ہندو کی نظر میں ضرورتوں کے وقت میں بھی طلاق قابل اعتراض ہے تو یہ ایک دوسرا اعتراض ہندو مذہب پر ہوگا کہ ایک ہندو جس کی عورت زنا کاری کی حالت میں بھی ہو تو چاہئے کہ ہندو اُس گندے عضو کو اپنے وجود میں سے نہ کاٹے اور اس بات پر راضی رہے کہ اُس کے گھر میں زنا ہوتا رہے اور ایک عورت اس کی بیوی کہلا کر پھر اُسکے سامنے اوروں سے بدکاری میں زندگی بسر کرے بیشک وید کی تعلیم یہی ہے مگر اسلامی تعلیم اس کے برخلاف ہے اور ایک مسلمان کی غیرت اور عفت ہرگز اس بات کو روا نہیں رکھے گی کہ ایک پلید چلن عورت کو اپنا جوڑ ا قرار دے غرض غیرت مندوں کے نزدیک ضرورتوں کے وقت طلاق ہرگز قابل اعتراض نہیں بلکہ اعتراض اُس حالت میں ہوگا کہ ایک عورت کو بدکار پا کر پھر نکاح کا تعلق اُس سے قائم رکھے اور دیوث بن کر گزارہ کرتا رہے پس ایک مسلمان ایک مرتبہ نہیں بلکہ ہزار مرتبہ اقرار کر سکتا ہے کہ اُس نے فلاں عورت کو کسی مکر وہ حالت اور ناپا کی میں پا کر ایک متعفن عضو کی طرح اپنے