آریہ دھرم — Page 16
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۶ آریہ دھرم ابھاؤ میں نیوگ کرے۔ سکھا دوسری کو بھی مرن و روگی ہونے کی انتر تیسری کے ساتھ کر لے۔ خواہش میں نیوگ کرے۔ ویسا ہی دوسرے مرد مرنے اور بیمار ہو جانے کے اندر تیسرے مرد کے ساتھ نیوگ اسی پر کارد شویں تک کرنے کی آ گیا ہے۔ کرلے۔ اسی طرح دسویں تک نوبت پہنچا دے وید کا یہی حکم ہے۔ پرنتو ایک کال میں ایک ہی بیرج داتا پتی رہے دوسرا نہیں اسی پر کار پرش کے لئے بھی وواہت مگر ایک وقت میں ایک ہی بیچ داتا ہو دوسرا جائز نہیں ( خاوند جب چاہے صحبت کرے یہ بیرج داتا کیلئے قاعدہ ہے) اسی انتری کے مرجانے پر پڑھوا کے ساتھ نیوگ کرنے کی آگیا ہے۔ اور جب وہ بھی روگی ۔ وامر طرح مرد کے واسطے بھی بیاہتا عورت کے مرجانے پر بیوہ عورت کیساتھ نیوگ کرنے کی اجازت ہے اور جب وہ بیوہ روگی ہو جائے تو سنتان او نیتی کے لئے ڈش انٹری پرینت نیوگ کرے یا جاوے یا مر جائے تو بچے جنانے کے لئے دسویں عورت تک نیوگ کرے۔ اب دیکھو یہ وہی وید بھومکا ہے جس کا قادیان کے آریوں نے حوالہ دیا تھا اور جس کی بناء پر ہماری ۱۴ غلط بیانی ثابت کرنی چاہی تھی سو اس میں بھی خلاصہ مطلب یہی نکلا کہ نیوگ کی صورتوں میں سے ایک یہ بھی صورت ہے کہ مرد کی منی کسی بیماری کی وجہ سے قابل اولا د نہ رہے مثلاً منی پتلی پڑ جائے یا اُس میں کسی قسم کا احتراق ہو جائے یا منی میں کیڑے نہ ہوں تو ان سب صورتوں میں مرد نا قابل اولا د ہو جائے گا اور واجب طور پر نیوگ کرانا پڑے گا اور اکثر الوقوع دنیا میں یہی قسم ہے کیونکہ اور قسمیں یعنی ہجڑہ ہونا یا خصی کئے جانا بہت نادر الوقوع ہیں کیونکہ لوگ سمجھ سوچ کر ہزار احتیاط اور تفتیش سے اپنی لڑکیوں کی شادی کرتے ہیں ہیجڑوں اور خصیوں کو کوئی لڑکی نہیں دیتا اور پیچھے سے خصی کئے جانا یہ ایسا شاذ و نادر ہے جو معدوم کی طرح ہے۔ آج کل کی جدید تحقیقات کی رو سے تو وہی لوگ نامرد اور نا قابل اولا د سمجھے گئے ہیں کہ گو وہ کیسی ہی قوت باور کھتے ہیں مگر اُن کی منی میں کیڑے نہیں ہوتے اور بعض وقت بظا ہر منی اچھی ہوتی ہے اور مرد جوان ہوتا ہے مگر منی اعتدال سے گر جاتی ہے اور یا ایسی صورت ہوتی ہے کہ مرد اپنی فطرت سے عقیمہ عورت کی طرح ہوتا ہے۔ تناسل کے اعضاء درست ہوتے ہیں قوت باہ نہایت تیز ہوتی ہے مگر لڑکا لڑکی کچھ بھی پیدا نہیں ہوتا ان تمام صورتوں میں منی کے کیڑوں ا بگویدادی بھاشیہ بھومکا ( مصنفہ سوامی دیانند سرسوتی باب ۲۶ نیوگ دشے ) ۔ ناشر इमां त्वमिन्द्र मीढ्वः सुपुत्रां सुभगां कृणुः । दशास्यां पुत्राना धेहि पतिमेकादशं कृधि ॥