آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 550

آریہ دھرم — Page 15

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۵ وید بهاش بھومکا کی عبارت جو آریوں نے اپنے مطلب کے لئے نا تمام لکھی ہے صفحہ ۲۱۱ آریہ دھرم نیوگ کرنے میں ایسا نیم ہے کہ جس انٹری کا پرش۔ واکسی پرش کی انٹری مرجائے ۔ اتھوا ان ترجمہ نیوگ کا قاعدہ یہ ہے کہ جس عورت کا خاوند یا جس خاوند کی عورت مر جائے یا عورت مرد کو میں کسی پر کار کا استھر روگ ہو جائے وانٹینسک بند ھیا دوش پڑ جائے ۔ اور اُن کی یو اوستھا ہو۔ کسی قسم کا مرض لاحق ہو جائے ( یعنی مثلا منی پتلی پڑ جائے یامنی میں کیڑے نہ ہوں یا ہیزی حالت یا خصی پن پیدا ہو جائے اور مرد عورت سکھا سنتان اُٹھتی کی اچھا ہو تو اُس اوستھا میں اُن کا نیوگ ہونا آؤش چاہئے۔ جوان ہوں اور اولاد پیدا ہونے کی خواہش ہو تو اس صورت میں ان کا نیوگ ہونا واجب ہے۔ اس کا نیم آگے لکھتے ہیں لیے صفحہ ۲۱۴۔ (ایمام) اس کا قاعدہ وید میں یوں لکھا ہے۔ ایشر منشو کو آگیا دیتا ہے کہ ہے اندر پتی ایشرج ٹیت تو اس انٹری کو بیر ج دان دے کے ایشر بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اے جوان تو اس عورت کو بیج بخش کر ئیتر اور سبھاگ ٹیکت کر۔ ہے بیرج پرد۔ (وشاسی) پیش کی پڑتی۔ وید کی یہ آگیا اولا داور بھاگ والی بنا ۔ اے بیج ڈالنے والے جوان دید کا یہ حکم ہے کہ اس وواہت ۔ وا نیوجت انٹری میں دس سنتان پر سائٹ اسکین کر اُدھک نہیں۔ ہے کہ اس منکوحہ اور نیوگن میں دین ابچوں سے زیادہ مت کر یتی میں سے) تھائی انتشری تو نیوگ میں گیاراں پتی تک کر۔ ارتھا تھ ایک تو اُن میں خاوند کے بارے میں ایسا ہی عورت کو حکم ہے کہ اے عورت تو نیوگ گیاراں خصم تک کر ۔ یعنی ایک تو اُن میں سے پر یتیم و اہت۔ اور دش پرینت نیوگ کی پتی کر ادھک نہیں ۔ اس کی یہ بیوستھا ہے کہ وواہت پہلا بیاہ۔ اور دس اُس کے بعد ۔ نیوگ کے خاوند اس سے زیادہ نہیں۔ خلاصہ یہ ہے که خاوند پتی کے مرنے وا روگی ہونے سے۔ دوسرے پرش والائتری کے ساتھ سنتانوں کے مر جانے یا اُس کے بیمار ہونے سے عورت دوسرے مرد سے یا مرد دوسری عورت سے اولاد کی ا بگویدادی بھاشیہ بھومکا ( مصنفہ سوامی دیانند سرسوتی باب ۲۶ نیوگ وشے ) ۲ د شاسیاں پتر انا دھے ہی۔ س پر تم اے کا ؤشم کر یدھی ۔ ناشر नियोग करने में ऐसा नियम है कि जिस स्त्री का पुरुष वा किसी पुरुष की स्त्री मर जाए अथवा उन में किसी प्रकार का स्थिर रोग हो जाये वा नपुंसक बंध्या दोष पड़ जाये और उनकी युवावस्था हो तथा सन्तानोत्पत्ति की इच्छा हो तो उस अवस्था में उनका नियोग होना अवश्य चाहिये इसका नियम आगे लिखते हैं भूमिका۔ प۔ २११ ॥ २१२ ॥