آریہ دھرم — Page 11
روحانی خزائن جلد ۱۰ 11 آریہ دھرم شریفوں کا کام نہیں کہ جھوٹے تو آپ ہوں اور بچے کو گالیاں دیں یہ ہرگز نیک ذاتوں ۱۰ کا کام نہیں اور پھر تعجب کہ ہمیں غلط بیانی کا الزام تو لگا یا مگر اپنے اشتہار میں کچھ بیان نہ کیا کہ وہ غلط بیانی کیا ہے اور کس شرقی کو ہم نے خلاف واقعہ لکھا اور کس عبارت کو ہم نے محرف کیا اور کیا بڑھا دیا اور کیا گھٹا دیا بلکہ بالآخر اسی اشتہار میں اقرار کر دیا کہ بقیه شرم اور حیا اور حمیت کے برخلاف ہے۔ کیا کوئی شریف الفطرت اس بات پر راضی ہو سکتا ہے کہ اولاد کی خواہش سے یا لڑکیوں کی کثرت کے بعد لڑ کا پیدا ہونے کی تمنا سے ایک اجنبی کو حاشیه اپنے گھر میں آپ بلا لا دے اور اپنی عورت کو اُس سے ہم بستر کرا دے اور آپ الگ بیٹھا جوش شہوت کی حرکات دیکھتا ر ہے کیا اب بھی آپ لوگ اس تعلیم کو خدا تعالیٰ کی تعلیم کہیں گے؟ 10 اے میرے پیارے ہموطنو! اس خدا سے ڈرو جو ہر گز ناپاکی کے راہوں کو پسند نہیں کرتا وہ ہر گز نہیں چاہتا کہ اُس کے بندوں میں زنا پھیلے اور حرامی اولاد پیدا ہوا ایسی بیٹے کی خواہش پر بھی ہزار لعنت ہے جس کی والدہ اپنا عزیز خاوند چھوڑ کر دوسرے کے آگے پڑتی ہے اور تف اس اولاد پر جو حرام کاری کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہے۔ عزیز و ذرا سوچو کہاں ہے تمہاری شرافت کہاں ہے تمہاری انسانی حمیت کہاں ہے تمہارا کانشنس ۔ غیر کا نطفہ تمہارا بیٹا ہرگز نہیں ہوگا اور ناحق بے حیائی سے اپنی عورتوں کی پاک دامنی کو گندگی میں ڈال دو گے ۔ دنیا میں کنجر سب سے زیادہ بے شرم اور فاسق قوم ہے مگر وہ بھی اپنی بہو سے حرام کاری بقیه یه ایمانی اقرار ہے کہ ہر ایک ایسا شخص جو مقابلہ کرنے کے لئے علمی لیاقت رکھتا ہو یعنی اگر وہ انگریزی حاشیه کا حامی ہے تو انگریزی دان ہو اور اگر سنسکرت کا حامی ہے تو سنسکرت دان ہو اُس کی درخواست آنے کے وقت نقد پانچ ہزار روپیہ ایسی جگہ جمع کرا دیا جائے گا جو اُس کی مرضی کے مطابق اور قرین انصاف ہو غرض یہ اُس کا حق ہوگا کہ ہر طرح سے پوری تسلی کر لے ہاں اس پر یہ لازم ہوگا کہ ہمارا تحریری اقرار نامہ لے کر اپنی طرف سے بھی یہ اقرار نامہ لکھ دے کہ اگر وہ ایک مدت مقررہ تک جس کا تصفیہ بعد میں ہو جائے گا مقابلہ پر کچھ نہ لکھے یا ایسا لکھے جو منصفوں کی نظر میں بیچ ہو تو اس مدت تک وہ تجارت کے کام کا روپیہ جو اس کے انتظار پر بند رہے گا اس کا مناسب ہرجانہ اُس کو دینا ہوگا اور یہ رو پر منصفوں کی ڈگری دینے سے اُس شخص کو مل جائے گا جو ا پنی زبان کو فضائل خاصہ غالبہ کی رو سے اُم الالسنہ ثابت کرے اور اس کا اختیار ہوگا کہ باضابطہ رسید کے ذریعہ سے وہ تمام روپیہ منصفوں کے پاس ہی جمع کرا دیوے اور ہم اس بات کو بدل قبول کرتے ہیں کہ اس فیصلہ در حاشیه