آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 550

آریہ دھرم — Page 3

روحانی خزائن جلد ۱۰ آریہ دھرم لالچ سے نیوگ کر سکتی ہے یعنی کسی دوسرے سے مجامعت کر سکتی ہے جب تک کہ اس غیر آدمی کا حمل ٹھہر جائے میں نے اس رسالہ کو بھی خوب توجہ سے پڑھا مگر سچ تو یہ ہے کہ مجھے اُس رسالہ پر بھی اعتبار نہ آیا اور میں نے یہ خیال کیا کہ غالباً یہ رسالہ پنڈت اگنی ہوتری صاحب کے ہاتھ سے نکلا ہے اور میں سنتا ہوں کہ آریہ صاحبوں اور اُن کے باہم سخت عداوت ہے اس لئے ممکن ہے کہ پنڈت صاحب نے عداوت کے جوش سے اپنی طرف سے کوئی حاشیہ چڑھا دیا ہو لیکن جب میں ستیارتھ پرکاش کے حوالے اُس میں دیکھتا تھا تو میرا پھر خیال اس طرف جھک جاتا تھا کہ کیونکر ممکن (۳) ہے کہ کوئی ثقہ آدمی جھوٹے حوالوں سے ناحق اپنے تئیں الزام کے نیچے لاوے مگر بہر حال اُس وقت بھی میں قابل تسلی کوئی فیصلہ نہ کر سکا۔ پھر مجھے کلکتہ کے بعض نامی پنڈت صاحبوں کی رائے کی کیفیت بذریعہ ایک اخبار کے معلوم ہوئی جو بڑے جوش سے نیوگ کے مسئلہ کے حامی تھے مگر پھر بھی میں نے دل میں کہا کہ کلکتہ ہم سے بہت دور ہے ممکن ہے کہ کسی اخبار والے نے اس میں جھوٹھ ملا دیا ہو۔ بالآخر یہ دل میں آیا کہ پنڈت دیا نند کی کتابوں کو آپ ہی سنیں اور ساتھ ہی یہ بھی قرین انصاف سمجھا گیا کہ اگر دیانند صاحب نے نیوگ کے بارے میں صرف اپنی ہی رائے لکھی ہو اور وید کا کوئی حوالہ نہ دیا ہو تو آریہ مذہب پر حقیقی طور سے کوئی الزام نہیں آسکتا وید پر تو تبھی الزام آئے گا کہ جب وہ ناپاک تعلیم اُس کتاب میں پائی بھی جاوے جو الہامی مانی جاتی ہے۔ غرض میں نے یہ طریق فیصلہ قرار دے کر دیا نند صاحب کی کتابیں بہم پہنچا ئیں اور چونکہ سنا گیا تھا کہ پہلے چھاپہ کی ستیارتھ پر کاش کو آریہ صاحب قبول نہیں کرتے اس لئے اس تمام فیصلہ کا دوسرے چھاپہ کی ستیارتھ پرکاش پر مدار رکھا گیا چنانچہ وہ کتاب مجلس میں منگوائی گئی اور ایک صاحب ہماری جماعت میں سے صفحہ نمبر ۱۱۳ سے عبارت کو پڑھنے لگے اور پڑھتے پڑھتے اس مقام تک پہنچے۔ دیانند صاحب کی (اگر) نہیں نہیں۔ کیونکہ جو انٹری پراش پر ہم پرج میں استھیت رہنا چاہے تو عبارت معہ ترجمہ کوئی بھی اپر رؤ نہ ہوگا اور جوگل کی پر میئر ارکھنے کے لئے کسی اپنے سو جاتی کالڑکا گود میں لے لیں گے اس سے گل چلے گا اور بھی چار نہ ہوگا اور جو بر بم چرچ نہ کرسکیں تو نیوگ کر کے سنتان اُت پت کرلیں۔ یعنی بے اولادی کی حالت میں دوسرا نکاح کرنا ہرگز درست نہیں اور نہ حاجت ہے کیونکہ دو تدبیریں ایسی ہیں جن سے نکاح کی کچھ بھی ضرورت باقی نہیں رہتی ایک تو और जो ब्रह्मचर्य न रख सकें तो नियोग कर के सन्तानोत्पत्ति कर लें ॥