آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxix of 550

آریہ دھرم — Page xxix

ہو گئی کہ موڈریٹر صاحبان نے نہایت جوش اور خوشی کے ساتھ اجازت دی کہ جب تک یہ مضمون ختم نہ ہو تب تک کارروائی جلسہ کو ختم نہ کیا جاوے۔اُن کا ایسا فرمانا عین اہلِ جلسہ اور حاضرین جلسہ کی منشا کے مطابق تھا۔کیونکہ جب وقتِ مقررہ کے گذرنے پر مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب نے اپنا وقت بھی اس مضمون کے ختم ہونے کے لئے دے دیا تو حاضرین اور موڈریٹر صاحبان نے ایک نعرہ خوشی سے مولوی صاحب کا شکریہ ادا کیا۔جلسہ کی کارروائی ساڑھے چار بجے ختم ہو جانی تھی لیکن عام خواہش کو دیکھ کر کارروائی جلسہ ساڑھے پانچ بجے کے بعد تک جاری رکھنی پڑی کیونکہ یہ مضمون قریباً چار گھنٹہ میں ختم ہوا اور شروع سے اخیر تک یکساں دلچسپی و مقبولیت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔‘‘ (رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ ۷۹،۸۰ مطبوعہ مطبع صدیقی لاہور ۱۸۹۷ ؁ء) عجب بات یہ ہے کہ جلسہ کے انعقاد سے قبل ۲۱؍ دسمبر ۱۸۹۶ء کو حضرت بانئ جماعت احمدیہ نے اپنے مضمون کے غالب رہنے کے لئے اﷲ تعالیٰ سے خبر پا کر ایک اشتہار شائع کیا جس کی نقل درجِ ذیل ہے۔’’سچائی کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری‘‘ جلسۂ *اعظم مذاہب جو لاہور ٹاؤن ہال میں ۲۶؍ ۲۷؍ ۲۸ ؍ دسمبر ۱۸۹۶ ؁ء کو ہو گا۔اُس میں اس عاجز کا ایک مضمون قرآن شریف کے کمالات اور معجزات کے بارہ میں پڑھا جائے گا۔یہ وہ مضمون ہے جو انسانی طاقتوں سے برتر اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان اور خاص اُس کی تائید سے لکھا گیا ہے۔اِس میں قرآن شریف کے وہ حقائق اور معارف درج ہیں جن سے آفتاب کی طرح روشن ہو جائے گا کہ درحقیقت * حاشیہ سوامی شوگن چند صاحب نے اپنے اشتہار میں مسلمانوں اور عیسائی صاحبان اور آریہ صاحبوں کو قسم دی تھی کہ ان کے نامی علماء اس جلسہ میں اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں ضرور بیان فرما دیں۔سو ہم سوامی صاحب کو اطلاع دیتے ہیں کہ ہم اس بزرگ قسم کی عزت کے لئے آپ کے منشا کو پورا کرنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمارا مضمون آپ کے جلسہ میں پڑھا جائے گا۔اسلام وہ مذہب ہے جو خدا تعالیٰ کا نام درمیان میں آنے سے سچے مسلمان کو کامل اطاعت کی ہدایت فرماتا ہے لیکن اب ہم دیکھیں گے کہ آپ کے بھائی آریوں اور پادریوں صاحبوں کو اپنے پرمیشر یا یسوع کی عزت کا کس قدر پاس ہے اور وہ ایسے عظیم الشان قدوس کے نام پر حاضر ہونے کے لئے مستعد ہیں یا نہیں؟ منہ