آریہ دھرم — Page xxviii
یہ مضمون حضرت مرزا غلام احمدؐ صاحب قادیانی بانئ جماعت احمدیہ کا لکھا ہوا تھا۔اس مضمون کے مقررہ وقت میں جو دو گھنٹہ تھا ختم نہ ہونے کی وجہ سے ۲۹ ؍ دسمبر کا دن بڑھایا گیا۔’’پنجاب آبزرور‘‘ نے اس مضمون کی توصیف میں کالموں کے کالم بھر دیئے۔پیسہ اخبار، چودھویں صدی، صادق الاخبار ، مخبر دکن و اخبار ’’جنرل وگوہر آصفی ‘‘ کلکتہ وغیرہ تمام اخبارات بالاتفاق اِس مضمون کی تعریف و توصیف میں رطبُ اللِّسان ہوئے۔غیر اقوام اور غیر مذاہب والوں نے اس مضمون کو سب سے بالا تر مانا۔اِس مذہبی کانفرنس کے سیکرٹری دھنپت رائے بی۔اے، ایل ایل بی پلیڈر چیف کورٹ پنجاب کتاب ’’رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب‘‘ (دھرم مہو تسو) میں اِس تقریر سے متعلق لکھتے ہیں:۔’’پنڈت گوردھن داس صاحب کی تقریر کے بعد نصف گھنٹہ کا وقفہ تھا۔لیکن چونکہ بعد از وقفہ ایک نامی وکیل اسلام کی طرف سے تقریر کا پیش ہونا تھا اس لئے اکثر شائقین نے اپنی اپنی جگہ کو نہ چھوڑا۔ڈیڑھ بجے میں ابھی بہت سا وقت رہتا تھا کہ اسلامیہ کالج کا وسیع مکان جلد جلد بھرنے لگا اور چند ہی منٹوں میں تمام مکان پُر ہو گیا۔اس وقت کوئی سات اور آٹھ ہزار کے درمیان مجمع تھا۔مختلف مذاہب و مِلَل اور مختلف سوسائٹیوں کے معتدبہ اور ذی علم آدمی موجود تھے اگرچہ کُرسیاں اور میزیں اور فرش نہایت ہی وسعت کے ساتھ مہیّا کیا گیا لیکن صد ہا آدمیوں کو کھڑا ہونے کے سوا اور کچھ نہ بن پڑا۔اور ان کھڑے ہوئے شائقینوں میں بڑے بڑے رؤساء ، عمائد پنجاب، علماء ، فضلاء، بیرسٹر ، وکیل، پروفیسر ، اکسٹر ا اسسٹنٹ ، ڈاکٹر، غرض کہ اعلیٰ طبقہ کے مختلف برانچوں کے ہر قسم کے آدمی موجود تھے۔اور ان لوگوں کے اس طرح جمع ہو جانے اور نہایت صبر و تحمل کے ساتھ جوش سے برابر پانچ چار گھنٹہ اس وقت ایک ٹانگ پر کھڑا رہنے سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ان ذی جاہ لوگوں کو کہاں تک اس مقدس تحریک سے ہمدردی تھی مصنّف تقریر اصالتاً تو شریک جلسہ نہ تھے۔لیکن خود انہوں نے اپنے ایک شاگردِ خاص جناب مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی مضمون پڑھنے کے لئے بھیجے ہوئے تھے۔اِس مضمون کے لئے اگرچہ کمیٹی کی طرف سے صرف دو گھنٹے ہی تھے۔لیکن حاضرین جلسہ کو عام طور پر اس سے کچھ ایسی دلچسپی پیدا