آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiv of 550

آریہ دھرم — Page xxiv

جائے گی۔چنانچہ ایک مدّت کے بعد وہ پیشگوئی بکمال صفائی پوری ہوگئی اور تین سو برس کے بعد وہ چولہ ہمیں دستیاب ہو گیا کہ جو ایک صریح دلیل باوا صاحب کے مسلمان ہونے پر ہے۔‘‘ ( نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۸۱،۵۸۲ ) اور فرماتے ہیں:۔’’اور میری خواب میں جو باوا نانک صاحب نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اِس سے یہی مراد تھی کہ ایک زمانہ میں اُن کا مسلمان ہونا پبلک پر ظاہر ہو جائے گا۔چنانچہ اِسی امر کے لئے کتاب ست بچن تصنیف کی گئی تھی۔اور یہ جومیں نے ہندوؤں کو کہا کہ یہ چشمہ گدلا ہے ہمارے چشمہ سے پانی پیو اس سے یہ مراد تھی کہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اہلِ ہنود اور سکھوں پر اسلام کی حقانیت صاف طور سے کھل جائے گی اور باوا صاحب کا چشمہ جس کو حال کے سکھّوں نے اپنی کم فہمی سے گدلا بنا رکھا ہے وہ میرے ذریعہ صاف کیا جائے گا اور جس تعلّق کو باوا صاحب نے ہندو قوم سے بڑی مردی اور مردانگی کے ساتھ توڑ دیا تھا وہ توڑنا دوبارہ ثابت کر دیا جائے گا۔‘‘ ( نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸صفحہ۵۸۳،۵۸۴) عیسائیت پر اتمام حجّت ۱۸۹۵ء میں اگر ایک طرف آپؑ نے چولہ باوا نانک کے انکشاف سے ہندوؤں اور سکھوں پر صداقت اسلام کی اتمام حجّت کی تو دوسری طرف مرہم عیسیٰ کے انکشاف سے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زخموں کے لئے واقعہ صلیب کے بعد تیار کی گئی تھی عیسائیت پر اتمام حجّت کی اور بدلائلِ قاطعہ ثابت کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر مرے نہیں تھے بلکہ صلیب سے زندہ اتارے گئے تھے۔اور اُن کے حواریوں نے اُن کے زخموں کے لئے یہ مرہم تیار کی تھی۔اس کے بعد وہ اپنے ملک سے نکل گئے اور آخر کشمیر پہنچے اور سری نگر محلہ خان یار میں اُن کی قبر موجود ہے۔(الھُدٰی۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۳۶۱تا۳۷۲۔نفس مضمون) اور ظاہر ہے کہ موجودہ عیسائیت کی بنیاد کفارہ پر ہے اور کفارہ کی بنیاد مسیحؑ کی صلیبی موت ہے۔پس مسیحؑ کے صلیب پر سے زندہ اُترنے اور طبعی وفات پانے کے ثبوت سے موجودہ عیسائیت بالکل باطل ہو جاتی ہے۔اور مسیحؑ کی سری نگر میں قبر کا انکشاف آپؑ پر اسی سال یعنی ۱۸۹۵ء ؁ میں ہوا۔گو بعد میں اس کے تائیدی