آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 550

آریہ دھرم — Page xxiii

’’کہ روزانہ نئی نئی بناوٹیں بنا کر سکھ تاریخ میں ناخوشگوار اور عجیب و غریب تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔سکھ تاریخ کو حسب پسند سانچہ میں (جس کا سچائی سے بالکل کوئی واسطہ ہی نہیں) ڈھالا جا رہا ہے۔(ترجمہ از پرنر حصہ دوم صفحہ ۴ بحوالہ ’’پیغام صلح‘‘ ۲؍جنوری ۱۹۵۲ ؁ء) اب سکھ جو چاہیں کریں لیکن چولہ صاحب کی یہ کرامت ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ تک محفوظ رہا۔اور چونکہ اس پر قرآنی سورتیں اور آیات لکھی ہوئی ہیں اس لئے آج تک ان میں کوئی تبدیلی بھی نہ کر سکا۔اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں اس کا عکس شائع کر کے رہتی دنیا تک کے لئے اُسے محفوظ کر دیا۔آپ فرماتے ہیں:۔اُٹھو جلد تر لاؤ فوٹو گراف ذرا کھینچو تصویر چولے کی صاف کہ دنیا کو ہرگز نہیں ہے بقا فنا سب کا انجام ہے جز خُدا سو لو عکس جلدی کہ اب ہے ہراس مگر اُس کی تصویر رہ جائے پاس یہ نُور خدا ہے خدا سے مِلا ارے جلد آنکھوں سے اپنی لگا ( ست بچن۔روحانی خزائن جلد۱۰ صفحہ ۱۷۰) پس چولے پر جو کچھ لکھا ہوا تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں درج ہو کر ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا۔اب حقائق پر پردہ ڈالنے والوں کی تمام مساعی اور ان کو مسخ کرنے والوں کے سب منصوبے رائیگاں اور بے سود ہیں۔اور حضرت باوا نانک کے اسلام کی اس قطعی اور یقینی شہادت سے آپؑ کا ایک خواب پورا ہوا جس میں آپؑ نے باوا نانکؒ کو مسلمان دیکھا تھا۔چنانچہ حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں:۔’’ایک دفعہ میں نے باوا نانک صاحب کو خواب میں دیکھا کہ انہوں نے اپنے تئیں مسلمان ظاہر کیا ہے اور مَیں نے دیکھا کہ ایک ہندو اُن کے چشمہ سے پانی پی رہا ہے۔میں نے اُس ہندو کو کہا کہ یہ چشمہ گدلا ہے ہمارے چشمہ سے پانی پیو۔تیس برس کا عرصہ ہوا ہے جبکہ مَیں نے یہ خواب یعنی باوا نانک صاحب کو مسلما ن دیکھا اُسی وقت اکثر ہندوؤں کو سُنایا گیا تھا اور مجھے یقین تھا کہ اِس کی کوئی تصدیق پیدا ہو