آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxi of 550

آریہ دھرم — Page xxi

چولہ باوا نانکؒ چولہ صاحب باوا نانکؒ کے مسلمان ہونے کی ایک عظیم الشان شہادت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چولہ صاحب کے متعلق یہ علم ہوا کہ سکھ کتب میں لکھا ہے کہ وہ چولہ آسمان سے اُترا تھا اور قدرت کے ہاتھ سے لکھا گیا۔اور یہ کہ اُس پر قرآن لکھا ہوا ہے اور وہ باوا صاحب کی ایک مقدس یادگار کے طور پر ڈیرہ بابا نانک میں محفوظ ہے۔تو آپ نے مفصّل تحقیقات کے لئے ایک وفد ڈیرہ بابا نانک بھیجا۔( ست بچن۔روحانی خزائن جلد ۱۰صفحہ ۱۴۴) اُن کی رپورٹ سُننے پر کہ اس پر کلمہ طیّبہ لکھا ہوا ہے۔اور ایسا ہی کئی اور آیات بھی ہیں آپ نے مناسب سمجھا کہ اس تاریخی شہادت کو جو یقینی طور پر باوا صاحبؒ کا مسلمان ہونا ثابت کرتی ہے بچشم خود ملاحظہ فرمائیں۔چنانچہ آپ بعد استخارہ مسنونہ ۳۰؍ ستمبر ۱۸۹۵ء بروز پیر د۱۰س اصحاب کو اپنے ساتھ لے کر یکّوں پر ڈیرہ بابا نانک تشریف لے گئے اور چولہ ملاحظہ فرمایا۔دیکھا کہ واقعی اس پر قرآن کی بعض سورتیں اور آیات اور کلمہ شہادت وغیرہ لکھّی ہیں۔ساتھ جانے والوں کے نام اور چولہ دیکھنے کے تفصیلی کوائف اِس جلد کے صفحہ ۱۵۳۔۱۵۵ پر درج ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد دیگر مذاہب پر دین اسلام کی حقیّت و صداقت ثابت کرنا ازل سے مقدّر تھا۔سکھ مذہب اسلام کے کئی سو سال بعد جاری ہوا تھا۔آپؑ کا یہ کام بھی تھا کہ اس نئے مذہب کابطلان بھی ثابت کرتے۔سو اﷲ تعالیٰ نے آپؑ کے ذریعہ یہ حقیقت ظاہر کر دی جو صد ہا سال سے مستور تھی کہ ان کے بانی گرو یعنی حضرت بابا نانک صاحب گو پیدائشی ہندو تھے لیکن بعد میں مسلمان ہو گئے تھے اور اُن کی مقدس یادگار چولہ صاحب جو وہ بطور وصیت نامہ کے چھوڑ گئے اُن کے مسلمان ہونے کی ایک یقینی اور قطعی شہادت ہے۔حضرت اقدسؑ فرماتے ہیں مقدّر یہی تھا کہ وہ ہمارے زمانہ تک محفوظ رہے تاہم باوا صاحب کو بے جا الزاموں سے پاک کر کے اُن کا اصل مذہب ظاہر کریں۔اور چولہ پر جو لکھا ہے اُس کا دیکھنا ہم سے پہلے کسی کو نصیب نہیں ہوا۔اور اس وقت تک چولہ باقی رہنے میں یہی حکمت تھی کہ وہ ہمارے وجود کا منتظر تھا۔پس اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ باوا نانکؒ کا مسلمان ہونا ظاہر کر دیا۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جب کبھی سکھ قوم سنجیدگی سے اپنے گروہ کا اصل مذہب معلوم کرنے کے لئے تحقیق کرے گی تو اُس پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہ درحقیقت اسلام کے شیدائی تھے۔اور یہ کتاب ست بچن اُن کے لئے