آریہ دھرم — Page xx
خدمت میں ایک قانون پاس کرنے یا سرکلر جاری کرنے کے لئے ایک نوٹس اور ایک درخواست کا مضمون بھی لکھا ہے جس پر متعدد صوبہ جات اور مقامات کے مسلمانوں نے دستخط اور مواہیر بھی ثبت کیں اور گورنمنٹ سے یہ التماس کی ہے کہ وہ مذہبی مباحثات کے لئے یہ قانون پاس کرے یا سرکلر جاری کرے کہ اہل مذاہب معترضین د۲و امر کے ضرور پابند رہیں گے۔اوّل۔کوئی معترض ایسا اعتراض دوسرے فرقہ پر نہ کرے جو خود معترض کی اُن کتابوں پر پڑتا ہو جن پر اُس کا ایمان ہے۔دوم۔اگر کوئی فریق اپنی مسلمہ کُتب کے نام بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے شائع کر دے تو کوئی معترض اُن کتابوں سے باہر نہ جائے۔اور اگر کوئی اس قانون کی خلاف ورزی کرے۔تو دفعہ ۲۹۸ تعزیرات ہند میں مندرجہ سزا کا مستوجب ہو۔مگر قارئین کرام یہ سن کر حیران ہوں گے کہ جس قانون کے نافذ ہونے سے عیسائیوں اور آریوں کی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پاک ذات پر اعتراض کرنے سے زبان بند ہو سکتی تھی اس درخواست کی مخالفت مسلمان کہلانے والے مولویوں خصوصاً مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے کی۔(رسالہ اشاعۃ السنہ جلد ۱۶ نمبر ۱۲ صفحہ ۳۶۱) نوٹ:۔نظم مندرجہ صفحہ ۷۵۔۷۷ کے متعلق حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہان پوری وثوق اور یقین سے فرماتے ہیں کہ یہ حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نہیں۔اور حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل فرماتے ہیں کہ مجھے تو یہاں تک یاد پڑتا ہے کہ خود حضرت میر صاحب نے بھی مجھ سے ایسا ذکر کیا تھا۔اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد نے فرمایا ہم نے بھی ایسا ہی سُنا ہے۔ست بچن کتاب ست بچن کی تالیف سے غرض جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے پنڈت دیانند کے باوا نانکؒ پر بے جا الزامات مندرجہ ستیارتھ پرکاش کا رفع دفع کرنا ہے تا آریہ لوگ جنہیں خدا کا خوف نہیں وہ اس حقانی انسان کی راست گفتاری اور راست روی کو غور سے دیکھیں اور ہو سکے تو اُس کے نقشِ قدم پر چلیں۔دوسرے باوا نانکؒ صاحب کا یہ عقیدہ اور مذہب دنیا پر ظاہر کرنا مقصود ہے کہ وہ قول و فعل کے لحاظ سے سچے مسلمان تھے۔انہوں نے ویدوں سے دستبرداری کا اظہار کیا اور اسلامی عقائد کو اختیار کیا اور اپنے اشعار میں یہ اقرار کیا کہ کلمہ طیّبہ لاالٰہ الّا اﷲ محمّد رسول اﷲ ہی مدار نجات ہے اسلام کے مشائخ سے بیعت کی۔اولیاء کے مقابر پر چلّہ نشینی اختیار کی۔دو حج کئے۔اپنے چولہ کو آئندہ نسلوں کے لئے بطور وصیت نامہ چھوڑ گئے۔