آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 550

آریہ دھرم — Page 99

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۹۹ آریہ دھرم ایمان لائے ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے اور یہ بھی ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر یک قوم میں کوئی نہ کوئی مصلح گذرا ہے اور ہمیں یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ ہم پورے علم کے بغیر کسی کی نسبت کوئی رائے ظاہر نہ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ (۲) وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ہے سو یہ پاک عقائد نہیں بے جا بد زبانیوں اور متعصبانہ نکتہ چینیوں سے محفوظ رکھتے ہیں مگر ہمارے مخالف چونکہ تقویٰ کی راہوں سے بالکل دور اور بے قید اور خلیج الرسن ہیں اور قرآن کریم جو سب سے پیچھے آیا اُن کو طبعاً برا معلوم ہوتا ہے لہذاوہ جلد خش گوئی اور بدزبانی اور توہین کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور سچی باتوں کے مقابل پر افتراؤں سے کام لیتے ہیں چنانچہ اس تیس سال کے عرصہ میں ہمارے مخالفوں نے اس قدر مخش گالیاں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کتابوں میں دی ہیں اور اس قدر افترا اسلامی تعلیم پر کئے ہیں کہ میں یہ دعوئی سے کہتا ہوں کہ آپ لوگ تیرہ سو گذشتہ سالوں میں یعنی اسلام کے ابتدائی زمانہ سے آج تک اس کی نظیر نہیں پاؤ گے اور اسی پر بس نہیں بلکہ یہ ناجائز طریق ترقی پر ہے اس لئے ہر یک ایسے بچے مسلمان کا فرض ہے کہ جو درحقیقت اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہے کہ ایسے موقعہ پر بے غیرتوں اور بے ایمانوں کے رنگ میں بیٹھا نہ رہے بلکہ جیسا کہ اپنی حفظ عزت کے لئے کوشش کرتا ہے اور جب عزت برباد ہونے کا کوئی موقعہ پیش آوے تو جہاں تک طاقت وفا کرتی اور بس چل سکتا ہے اپنی آبرو کے بچاؤ کے لئے کوئی تدبیر باقی نہیں چھوڑتا بلکہ ہزار ہا روپیہ پانی کی طرح بہا دیتا ہے ایسا ہی شریف اور سچے مسلمانوں کے لئے بھی زیبا ہے کہ اُس پیارے رسول کی عزت کے لئے بھی جس کی شفاعت کی امید رکھتے ہیں کوشش کریں اور ایمانی نمونہ دکھلانے سے نامراد نہ جائیں۔ شاید بعض صاحبوں کی یہ رائے ہو کہ کیا ضرور ہے کہ اسلام کی طرف سے مذہبی تالیفات ہوں اور کیوں اس طریق کو اختیار نہ کیا جائے کہ مخالفوں کی تحریرات کا جواب ہی نہ دیں اس کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے کہ اول تو کوئی مذہب بغیر دعوت اور امر معروف اور نہی منکر کے قائم نہیں نوٹ ۔ یعنی جس بات کا تجھ کو یقینی علم نہیں دیا گیا اس بات کا پیروکارمت بن اور یا درکھ کہ کان اور آنکھ اور دل جس قدر اعضاء ہیں ان سب اعضاء سے باز پرس ہوگی۔ منہ ل بنی اسرائیل: ۳۷