آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 550

آریہ دھرم — Page 98

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۹۸ آریہ دھرم بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم السلام علیکم و رحمة الله و برکاته اما بعد اے غمخواران دین اسلام و محبان خیر الانام علیه الف الف سلام میں اس وقت ایک نہایت ضروری التماس آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس التماس کے قبول کرنے کے لئے آپ لوگوں کے سینوں کو کھولے اور اس مقصد کے فوائد آپ لوگوں کے دلوں میں الہام کرے کیونکہ کوئی امر گو کہ کیسا ہی عمدہ اور سراسر خیر اور مصلحت پر مبنی ہو مگر تب بھی اس کی بجا آوری کے لئے جب تک خدا تعالیٰ سے قوت نہ ملے ہرگز انسان ضعیف البنیان سے ہو نہیں سکتا اور وہ التماس یہ ہے کہ آپ صاحبوں پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہوگی کہ ان دنوں میں دینی مباحثات و مناظرات کا اس قدر ایک طوفان برپا ہے کہ جہاں تک تاریخ وفا کر سکتی ہے اُس کی کوئی نظیر پہلے زمانوں میں معلوم نہیں ہوتی اور اس معاملہ میں اس قدر تالیفات بڑھ گئی ہیں کہ پادری صاحبان کی ایک رپورٹ میں میں نے پڑھا ہے کہ چند سال میں چھ کروڑ سکتا ہیں ان کی طرف سے شائع ہوئیں ایسا ہی اہل اسلام کی طرف سے کروڑہا تو نہیں مگر صد ہا رسالوں تک تو نوبت پہنچی ہوگی اور آریہ صاحبوں کی کتابیں جو اسلام کے مقابل پر یا عیسائیوں کے مقابل لکھی گئیں اگر چہ تعداد میں تو کم ہیں مگر گالیاں دینے اور دل آزار کلمات لکھنے میں اول نمبر پر ہیں اور یہ بے تہذیبی اور بد زبانی دن بدن بڑھتی جاتی ہے آپ جانتے ہیں کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ جو کسی قوم کے پیشوا کو گالی دینا اُس کا اصول نہیں کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہم اُن پیمبروں پر نوٹ: یہ وہ خطوط ہیں جو مسلمانوں کی خدمت میں دستخط کرانے کیلئے بھیجے گئے ہیں۔