اَربعین — Page 367
روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۶۷ اربعین نمبر ۲ اس کو نہیں چاہیے تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے ۔ یہ پیشگوئی کے طور پر کئی سال پہلے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جبکہ میری نسبت کفر کا فتویٰ لکھا گیا۔ اور پھر فرمایا کہ اس فتویٰ تکفیر سے جو کچھ تکلیف تجھے پہنچے گی وہ تو خدا کی طرف سے ہے۔ یہ ایک فتنہ ہوگا۔ پس صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا اور آخر خدا منکرین کے مکر کو سست کر دے گا ۔ سمجھ اور یا درکھ کہ یہ فتنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو گا تا وہ تجھ سے بہت سا پیار کرے۔ یہ اس خدا کا پیار ہے جو غالب اور بزرگ ہے اور اس مصیبت کے صلہ میں ایک ایسی بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔ میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا پس میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں۔ زمین اور آسمان دونوں ایک سربستہ کھڑی کی طرح ہو گئے تھے جن کے جواہر اور اسرار پوشیدہ تھے پس ہم نے ان دونوں کو کھول دیا یعنی اس زمانہ میں ایک قوم پیدا ہوگئی جو ارضی خواص اور طبائع کو ظاہر کر رہے ہیں اور ان کے مقابل پر ایک دوسری قوم پیدا کی گئی جن پر آسمان کے دروازے کھولے گئے ۔ اور تجھے منکروں نے ایک نسی کی جگہ بنا رکھا ہے۔ اور کہتے ہیں کیا یہی ہے جس کو خدا نے مبعوث فرمایا۔ کہ میں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے فقط ایک بشر ہوں مجھ کو یہ وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔ اور تمام بہتری قرآن میں ہے۔ لٹک کر چل کہ تیرا وقت پہنچ گیا اور محمدیوں کا پیر ایک بلند اور محکم مینار پر پڑ گیا۔ وہی پاک محمد جو نبیوں کا سردار ہے۔ اے عیسی میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا ( یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مخالف کوشش کریں گے کہ کسی طرح کوئی ایسے امور پیدا ہو جائیں کہ لوگ خیال کریں کہ یہ شخص ایمان دار اور راستباز نہیں تھا۔ سو وعدہ دیا کہ میں علامات بینہ سے ظاہر کر دوں گا کہ وہ میرا مقرب ہے اور میری طرف اس کا رفع ہوا ہے اور بداندیش نا مرادر ہیں گے ) اور پھر فرمایا کہ میں تیری جماعت کو تیرے مخالفوں پر قیامت تک غلبہ دوں گا۔ ایک گروہ پہلوں میں سے