اَربعین — Page 366
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۶۶ اربعین ☆ نہیں دیا جاتا۔اے قادر کے بندے میں تیرے ساتھ ہوں اور آج تو میرے پاس امین ہے اور تیرے پر دنیا اور دین میں میری رحمت ہے اور تو منصور اور مظفر ہے دنیا اور آخرت میں وجیہ اور خدا کا مقرب۔ میں تیرا ضروری چارہ ہوں اور میں نے تجھے زندہ کیا۔ میں نے اپنے پاس سے سچائی کی روح تجھ میں پھونکی اور اپنی محبت تیرے پر ڈال دی اور تو نے میری آنکھوں کے سامنے پرورش پائی۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔ اس نے اس آدم کو یعنی تجھ کو پیدا کیا اور اس کو عزت دی۔ یہ خدا کا رسول ہے نبیوں کے (19) حلوں میں ۔ جو شخص اس کے مطبع سے رڈ کیا گیا اس کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ اور یا دکر وہ آنے والا زمانہ جبکہ ایک شخص تیرے پر تکفیر کا فتویٰ لگائے گا اور اپنے کسی ایسے شخص کو جس کے فتوے کا دنیا پر عام اثر ہوتا ہو کہے گا کہ اے ہامان میرے لئے اس فتنہ کی آگ بھڑکا تا میں اس شخص کے خدا پر اطلاع پاؤں ۔ اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ جھوٹا ہے ۔ ہلاک ہو گئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے اور وہ بھی ہلاک ہو گیا ( یعنی جس نے یہ فتویٰ لکھا یا لکھوایا ) یہ الفاظ بطور استعارہ ہیں جیسا کہ حدیث میں بھی مسیح موعود کے لئے نبی کا لفظ آیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جس کو خدا بھیجتا ہے وہ اس کا فرستادہ ہی ہوتا ہے اور فرستادہ کو عربی میں رسول کہتے ہیں۔ اور جو غیب کی خبر خدا سے پا کر دیوے اس کو عربی میں نبی کہتے ہیں۔ اسلامی اصطلاح کے معنے الگ ہیں۔ اس جگہ محض لغوی معنے مراد ہیں۔ ان سب مقامات کا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ریویو لکھا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ ہیں برس سے تمام پنجاب اور ہندوستان کے علماء ان الہامات کو براہین احمدیہ میں پڑھتے ہیں اور سب نے قبول کیا ۔ آج تک کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ بجز دو تین لدھیانہ کے ناسمجھ مولوی محمد اور عبد العزیز کے۔ منہ