انوارالاسلام — Page 62
روحانی خزائن جلد ۹ ۶۲ انوار الاسلام طرف خدا تعالیٰ نے مسٹر عبد اللہ آتھم کے لئے رخ نہ کیا اور دوسرا پہلو لے لیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ موت کا پہلو مجروح اور تختہ مشق اعتراضات کا ہو گیا تھا۔ کوئی کہتا تھا کہ مرنا کیا نئی بات ہے۔ ایک ڈاکٹر صاحب پہلے موت کا فتوی دے چکے ہیں کہ چھ مہینہ تک فوت ہو جاوے گا اور کوئی کہتا تھا کہ بڑھا ہے کوئی کہتا تھا کمزور ہے موت کیا تعجب ہے ۔ کوئی کہتا تھا کہ جادو سے مار دیں گے یہ شخص بڑا جادوگر ہے سو خدائے حکیم و علیم نے دیکھا کہ معترضوں نے اس پہلو کو بہت کمزور اور مشکوک کر دیا ہے ۔ اور خیالات پر سے اس کا اثر اٹھا دیا ہے اس لئے دوسرا پہلو اختیار کیا اور اس پہلو سے جادو کا گمان کرنے والے بھی شرمندہ ہوں گے کیونکہ دلوں کو حق کی طرف پھیرنا جادوگروں کا کام نہیں بلکہ خدا اور اس کے نبیوں اور رسولوں کا کام ہے سو اس وقت تک خدا تعالیٰ نے مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کی موت کو ان وجوہات سے ٹال دیا اور مسٹر عبد اللہ آتھم کے دل پر عظمت اسلام کا رعب ڈال کر پہلو ثانی سے اس کو حصہ دے دیا لیکن اب عیسائیوں کی رائیں بدل گئیں اور بھولا بسرا خداوند مسیح کہیں سے نکل آیا یہ اس زبانوں پر جاری ہو گیا کہ خداوند مسیح بڑا ہی قادر خدا ہے جس نے مسٹر عبد اللہ آتھم کو بچا لیا اس لئے ضرور ہوا کہ خدا تعالیٰ اس مصنوعی خدا کی حقیقت دنیا پر ظاہر کرے کہ کیا یہ عاجز انسان جس کا نام ربنا اُسی رکھا گیا کسی کو موت سے بچا سکتا ہے۔ سواب موت کے پہلو کا وقت آگیا اب ہم دیکھیں گے کہ عیسائیوں کا خدا کہاں تک طاقت رکھتا ہے اور کہاں تک اس مصنوعی خدا پر ان لوگوں کا تو کل ہے اب ہم اس مضمون کو ختم کرتے ہیں اور جواب کے منتظر ہیں ۔ والسلام على من اتبع الهدى المشتهر خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ور تمبر ۱۸۹۴ء سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” ان “ہونا چاہیے۔(ناشر)