انوارالاسلام — Page 29
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۹ انوار الاسلام اٹھایا ۔ کوئی ذلیل اور خوار ہوا اور کوئی ہزار لعنت کا نشانہ بنا اور کوئی خوف اور دیوانگی اور سراسیمگی میں مبتلا ہوا اور نہ مردوں میں رہا اور نہ زندوں میں اور ایک بھی ہادیہ سے بیچ نہ سکا ۔ پس افسوس ہے کہ جن لوگوں کو مسٹر عبد اللہ آتھم کی زندگی سے خوشی ہوئی وہ کیسے بے وقوف ہیں ۔ انہوں نے کہاں سے اور کس ۲۷ سے سن لیا کہ الہامی عبارت نے صرف عبد اللہ آتھم کے مرنے کی ہی خبر دی تھی اور کوئی شرط نہ تھی اور صرف موت پر ہی حصر تھا دوسری کوئی بھی بات نہیں تھی۔ یہ بخل اور تعصب اور شتاب کاری کی سزا ہے جو اب ہمارے مخالفوں کو ان جھوٹی خوشیوں کی ایسی ندامت اٹھانی پڑے گی جو مرنے سے بدتر ہے۔ اے حضرات الہام میں تو موت کا ذکر بھی نہیں ہاں ہماری تشریحی عبارت میں ہاویہ کے لفظ سے جو ہم نے عبد اللہ آعظم کی نسبت سمجھا ضرور موت کا لفظ موجود ہے مگر الہام میں یہ شرط بھی تو (۲۸) تھی کہ اس حالت میں ہادیہ میں گرے گا کہ جب حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کر دیا کہ اس نے حق کی طرف رجوع کیا۔ اور وہ ڈرا اور اسلامی عظمت اس کے دل میں سما گئی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت قدیم کے موافق عذاب موت اس سے بے باکی کے دنوں تک اٹھا لیا کیا کبھی قرآن کریم آپ لوگوں نے غور سے پڑھا یا کھانے پینے پر ہی کمر باندھ رکھی ہے۔ کیا یا د نہیں کہ کئی مقام میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ڈرنے والوں پر دنیوی عذاب نازل نہیں ہوتا ۔ دنیوی عذاب کے لئے صرف کفر ہی کافی نہیں بلکہ شوخی ، شرارت، تکبر ، استعلاء اور مومنوں کو آزار دینا اور حد سے بڑھنا ضروری ہے لیکن عبد اللہ آتھم نے ان پندرہ مہینوں میں کوئی شوخی اور تکبر نے وہ تمام عربی کتابیں ان پندرہ مہینوں میں تالیف کیں جن کے ساتھ عیسائیوں کے لئے پانچ ہزار روپیہ کا انعام تھا اور جن کے مقابل پر اگر تمام یا دری کوشش کرتے کرتے مر بھی جائیں تب بھی ان کی نظیر نہیں بنا سکتے۔ اسے عدو اللہ جھوٹ اور افتر ا سے باز آجا۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ ان پندرہ مہینوں میں کیا کیا عجیب ۲۸ عربی کتابیں میری طرف سے نکلیں اور اس تھوڑے عرصہ میں دس کے قریب تائید اسلام میں میں نے کتابیں لکھیں جو شائع بھی ہو گئیں کیا یہ بیمار کا کام ہے کرامات الصادقین کسی زمانہ میں لکھی گئی۔ سر الخلافہ کب تالیف ہوئی نور الحق کی دونوں جلدیں کس نے اور کب بنائیں۔ تحفہ بغداد کب شائع ہوا کیا یہ کتابیں ہی کتابیں نہیں ہیں جو اس پندرہ مہینہ میعاد پیشگوئی کے اندر لکھی گئیں اگر کوئی مولوی مخالف و مکفر بٹالوی وغیرہ پندرہ برسوں میں بھی ایسی کتابیں بنا کر دکھلاوے تو ہم مان لیں گئے کہ ہم اس پندرہ مہینہ میں بیمار ہے ورنہ اب تو بجز اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ لعنة الله على الكاذبين - منه