انوارالاسلام — Page 25
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۵ انوار الاسلام تسلیم کر لیا اور اس صریح نتیجہ سے کچھ بھی نہ ڈرے جو مغلوب ہونے کی حالت میں فریق مخالف کے ہاتھ میں آتا ہے اور جب میاں ثناء اللہ وسعد اللہ و عبد الحق وغیرہ نے عیسائیوں کا غالب ہونا مان لیا تو پھر کیوں یہ لوگ اپنے اشتہاروں میں عیسائیوں کے حال پر افسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کی تکذیب کے لئے یہ حجت قرار دی جبکہ بحث اسلام اور عیسائیت کے صدق و کذب کی تھی نہ میرے کسی خاص عقیدہ کی تو نعوذ باللہ اگر میں مغلوب ہوں تو پھر دشمن کے لئے حق پیدا ہو گیا کہ اپنی عیسائیت کے صدق کا دعوی کرے۔ امور بحث پر نظر چاہیے نہ مباحث پر مثلاً اگر ہماری طرف سے ایک بھنگی یا چہار جو دین سے بالکل الگ ہے اسلامی حمایت میں عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کرے تو پھر بھی یہ ممکن نہ ہوگا کہ عیسائی فتح یاب ہوں اور خدا تعالیٰ اس کا بھنگی یا چمار ہونا نہیں دیکھے گا بلکہ اپنے دین کی عزت محفوظ رکھ لے گا اور کبھی اسلام کو سیکی نہیں دکھلائے گا۔ تمہیں معلوم ہوگا کہ بعض کا فر اور بت پرست آنحضرت صلعم سے عہد صلح کر کے دوسرے کافروں کے ساتھ لڑتے تھے اور چونکہ اس حالت میں مؤید اسلام تھے تو دشمنوں پر فتح پاتے تھے سوفرض کرو کہ میں تمہاری نظر میں سب کافروں سے بدتر ہوں اور دوسرے کا فرتو خالدين فيها ابدا کے جہنم میں سزا پائیں گے اور میری سزا تمہاری نظر میں اس سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ تم نے میرا نام نہ صرف کافر بلکہ اکثر رکھا مگر تا ہم سوچنے کا مقام تھا کہ امور بحث میں ان باتوں کا کچھ بھی دخل نہ تھا جن کی وجہ سے مجھ کو آپ لوگ کافر اور اکفر اور دجال کہتے ہیں بلکہ زیر بحث وہی باتیں تھیں جن کیلئے ہر یک مسلمان کو غیرت کرنی چاہیے اور پھر طرفہ تر یہ کہ مجھ کو مغلوب اور عیسائیوں کو غالب بتلاتے ہیں یہ ایسا سفید جھوٹ ۲۴ ہے کہ کسی طرح چھپ نہیں سکتا۔ پیشگوئی کے مسٹر عبد اللہ آتھم کی نسبت دو پہلو تھے نہ صرف ایک اور خدا تعالیٰ نے اس پہلو کو جو مشکوک کیا گیا تھا یعنی موت کو چھوڑ دیا کیونکہ عبداللہ آتھم کی موت کو کچھ ایک معمولی بات اور قریب قیاس سمجھا گیا تھا اور دوسرا پہلو حق کی طرف رجوع کرنا تھا اس پہلو کو خدا تعالیٰ نے عبد اللہ آتھم کے افعال سے ثابت کر دیا۔ اگر کوئی مولویوں میں سے کہے کہ ثابت نہیں تو اگر وہ اس بات میں سچا اور حلال زادہ ہے تو عبداللہ تم کو اس حلف پر آمادہ کرے جو ہم لکھ چکے ہیں اگر عبداللہ آ تقم مقسم کھا لے تو ہم بلا توقف ہزار روپیہ بلکہ اب تو دو ہزار روپیہ با ضابطہ تحریر لے کر دے دیں گے ۔ پھر اگر وہ ایک سال تک فوت نہ ہوا تو جو مولوی لوگ ہمارا نام رکھیں سب سچ ہوگا اور نہ اس تصفیہ سے پہلے جو شخص اس فتح نمایاں کو قبول نہیں کرتا خواہ وہ امرت سری ہے یا غزنوی یا لدھیانوی یاد ہلوی یا بٹالوی وہ سراسر ظلم کرتا ہے اور