انوارالاسلام — Page 21
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۱ انوار الاسلام بدیہی طور پر اپنی نفسانی خواہشوں کے مطابق اس کو مشاہدہ کر لیتے مگر در حقیقت نہ بھی ایسا ہوا اور نہ ہوگا۔ اور اگر کبھی ایسا ہوتا اور ہر ایک سمج فطرت اپنی خواہشوں کے مطابق نشان دیکھ کر تسلی پالیتے تو گو خدا تعالی تو ایسا نشان دکھلانے پر قادر تھا اور اس بات پر قدرت رکھتا تھا کہ تمام گرد میں اس نشان کی طرف جھک جائیں اور ہر یک نوع کی فطرت اس کو دیکھ کر سجدہ کرے مگر اس دنیا میں جو ایمان بالغیب پر اپنی بنا رکھتی ہے اور تمام مدار نجات پانے کا ایمان بالغیب پر ہے وہ نشان حامی ایمان نہیں ہو سکتا تھا بلکہ ربانی وجود کا سارا پردہ کھول کر ایمانی انتظام کو بکلی برباد کر دیتا اور کسی کو اس لائق نہ رکھتا کہ وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر ثواب پانے کا مستحق رہے کیونکہ بدیہیات کا ماننا ثواب کا موجب نہیں ہوسکتا اور جب ایک ایسا کھوکھلا نشان دیکھ کر تمام نالائق اور پست فطرت اور سفلی خیال کے آدمی اور بد چلن انسان ایک ہا ہو کر کے جماعت میں داخل ہو جاتے تو ان کا داخل ہونا پاک جماعت کے لئے ننگ اور عار ہو جاتا اور نیز خلق اللہ کا ایک دفعہ رجوع کرنا اور کئی قسم کے فتنے پیدا کرتا انسانی گورنمنٹوں میں بھی ایک تہلکہ مچاتا ۔ اس لئے خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نے ابتدا سے نہیں چاہا کہ نشان نمائی میں عوام کا شور و غوغا ہونے دے اس کی باتیں ٹل نہیں سکتیں اور سب پوری ہوتی ہیں اور ہوں گی مگر ایسے طور سے جو قدیم سے سنت اللہ ہے۔ تنبیه ہم محض نصیحہ اللہ تمام مسلمانوں کو مطلع کرتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کے فضل اور کرم سے عیسائیوں کے گروہ کے مقابلہ میں ہم کو فتح نمایاں حاصل ہوئی ہے چنانچہ عیسائیوں کے فریق میں سے مسٹر عبد اللہ آتھم جو بحث کے لئے منتخب کئے گئے تھے ۔ انہوں نے اپنے کئی مہینوں کی سرگردانی اور غلبہ، خوف و ہم سے ثابت کر دیا کہ حق کی عظمت کو انہوں نے قبول کر لیا اور جو کچھ ان کے حال کے آئینہ سے ظاہر ہے یہ قائم مقام اقرار کے ہے بلکہ ایک صورت میں اقرار سے بھی واضح تر اور زیادہ تر تسلی کے لائق ہے کیونکہ بعض اوقات اقرار نفاق کی وجہ سے بھی ہوا کرتا ہے کئی یورپ کے عیسائی نوٹ۔ خاص جنڈیالہ میں بھی جہاں سے مباحثہ شروع ہوا تھا ڈاکٹر یوحنا جس کو عین مباحثہ میں اہتمام طبع مباحثہ کا سپر دہوا تھا اور جو بلحاظ اپنی خدمات کے عیسائیوں میں ایک اعلیٰ رکن متصور ہوتا تھا اس پر ہیبت نشان کے پورا کرنے کے واسطے میعاد مقررہ کے اندر اس جہان سے رخصت ہوا۔